بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ یاد رکھئے کہ صرف تبلیغی کاروائیاں بار آور نہیں ہوسکتیں۔ جب تک کہ مرکز مضبوط نہ ہو۔ اگر مرکز مضبوط ہوگا تو لوگوں کو دائرہ اسلام میں لانا آسان ہوگا۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم ازکم ایک صوبہ تو ایسا ہوگا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ مقصد بغیر کسی دقت کے حاصل ہوسکتا ہے۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ئ، ج۲ نمبر۱۸۳ ص۴)
تقریباً ایک ماہ بعد جمعہ کی تقریر میں مرزامحمود احمد قادیانی نے پھر اپنے ہم مذہبوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ بلوچستان کا صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا۔ یہ ہمارے قبضے میں آکر رہے گا۔ اگر تمام دنیا کی قومیں بھی متحد ہو جائیں تو وہ اس خطۂ ارض کو ہم سے نہیں چھین سکتے۔‘‘ (الفضل قادیان ج۲ نمبر۴۰ ص۵، مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۴۸ئ)
پاکستان میں قادیانیوں نے چنیوٹ کے قریب انتہائی سستے داموں وسیع خطۂ زمین حاصل کر کے ایک نئی کالونی کی بنیاد رکھی۔ جو انہوں نے محض اپنے ہم مذہبوں کے لئے مخصوص رکھی۔ چنانچہ قادیان خلیفہ نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے انکشاف کیا۔
’’اگرچہ موجودہ حالات کے مطابق زمین خاصی مہنگی ہونے کے علاوہ اپنے اندر کوئی کشش نہیں رکھتی۔ لیکن انشاء اﷲ ہم اسے ایک خوبصورت شہر میں تبدیل کر دیں گے۔ جو فوجی نقطۂ نظر سے محفوظ ترین ہوگا۔‘‘
پاکستان کے عین وسط میں اپنا گڑھ بنا کر قادیانی ٹولے نے ملک میں ہر طرف اپنی سازشوں کا وسیع جال پھیلا دیا۔ انہوں نے ربوہ کو ریاست درریاست بنا کر اپنا علیحدہ نظام حکومت قائم کر لیا۔ جس میں محکمہ امور خارجہ سے لے کر نیم فوجی تنظیموں تک کو منظم کیاگیا۔
منیر انکوائری رپورٹ کا ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’احمدیوں کا ایک منظم طبقہ ہے۔ جس کا ہیڈ کوارٹر ایک ایسے قصبہ میں ہے جو اس نے صرف اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ اس کی مرکزی تنظیم مختلف محکموں پر مشتمل ہے۔ مثلاً محکمہ امور خارجہ، محکمہ امور داخلہ، محکمہ امور عامہ، محکمہ اطلاعات ونشرواشاعت وغیرہ۔ اس قسم کے محکمے صرف ایک باقاعدہ حکومت کے سیکرٹریٹ ہی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس والنٹیرز کا بھی جتھا ہے۔ جسے خدام دین کہا جاتا ہے اور فرقان بٹالین پر مشتمل ہے۔ یہ وہی بٹالین ہے جوکشمیر میں خاص احمدیوں پر مشتمل تھی۔‘‘
(منیر انکوائری رپورٹ ص۱۹۸)
یہ امر واضح ہونے کے باوجود کہ قادیانی تحریک پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے لئے سرطان کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی حکمران نے اس بے لگام فتنے سے نمٹنے اور اس کے بزرجمہروں کو