رنگ لائی۔ دعائیں مستجاب ہوئیں اور پاکستان ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو دنیا کے نقشے پر پانچویں اور اسلامی ممالک میں سب سے بڑی اسلامی مملکت کی حیثیت سے ابھرا۔ اس نئی ریاست کو کمزور، متزلزل، بے دست وپانیز مشکلات سے دوچار کرنے کے لئے مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال کے علاوہ بھارت کے کئی حصوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا۔ لاکھوں لٹے پٹے، زخمی لاچار مسلمان قافلوں کی صورت میں پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ سکھوں کی ماردھاڑ کے خوف سے قادیانی بھی اپنے نام نہاد مقدس قصبہ قادیان کو ہندو گورنمنٹ کے ہاتھوں میں چھوڑ کر پاکستان کے سایہ عاطفت میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں انہوں نے چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے پار ۱۰۳۴ ایکڑ زمین نہایت ہی سستے داموں خریدی۔ پاکستان کی نوزائدہ مملکت لاتعداد انسانی اور سیاسی مسائل سے دوچار تھی۔ ایک طرف کیمپوں میں بیٹھے ہوئے لاکھوں مہاجرین کی آبادی کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف زخمیوں کی دیکھ بھال ادھر انتظامیہ کو ازسر نو ترتیب دینا اور کام پر لگانا تھا۔ ادھر دفتروں میں سیاہی، پنسل اور کاغذ تک ناپید تھے۔ ملک کی اقتصادی حالت ابتر تھی۔ اندرونی معاملات کے علاوہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بھی استوار کرنا تھے۔ فوجیں بھارت کے دور دراز علاقوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
ان حالات میں حکومت اس فتنے کی طرف توجہ نہ دے سکی۔ اس دوران اس غدار وملت فروش ٹولے کو اپنی کاروائیاں تیز ترکر کے اپنے ناپاک عزائم کو بلاروک ٹوک عملی جامہ پہنانے کا موقع مل گیا۔ اسلام کے دشمن ہونے کے باعث نظریۂ پاکستان کے بھی دل سے قائل نہ تھے۔ لہٰذا اپنے سابقہ نقطۂ نظر پر اڑے رہے۔ بظاہری ریاست سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے بھی دراصل ان کی وفاداریاں قادیان ہی سے وابستہ رہیں جو تقسیم کے بعد بھارت کے حصہ میں آیا۔ کلمہ لا الہ کے نام پر لی ہوئی اس مملکت کو وجود پذیر ہوئے ابھی سال بھی نہ گذرنے پایا تھا کہ ان کے مذموم ارادے بے نقاب ہوگئے۔ ان کے خلفیۂ ثانی مرزامحمود نے کوئٹہ میں ایک تقریر کے دوران صوبہ بلوچستان کو اپنا حصار بنانے کے ناپاک منصوبے کا اظہار کیا۔ دلیری ملاحظہ فرمائیں۔
’’برطانوی بلوچستان جو اب پاکستانی بلوچستان ہے کی کل آبادی پانچ چھ لاکھ ہے۔ اگرچہ اس کی آبادی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن بلوچستان ایک خود کفیل اکائی کی حیثیت سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو