پھر اس نے ہندوؤں کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’بحیثیت کرشن میں آریوں کو ان کی غلطیوں پر انتباہ کرتا ہوں۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)
مرزاقادیانی کی ان قلابازیوں کے باوجود اس کے بعض پرستار اس پر اندھا دھند اعتقاد رکھتے ہیں۔
’’سب تعریفیں اﷲ کے لئے جو مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ جس نے سابقہ زمانوں کی مانند ان دنوں بھی ایک نبی مبعوث فرمایا۔ جس کا نام احمد، مسیح موعود، مہدی، کرشن، پارسیوں کا مصلح، سب قوموں کی آرزو، اسلام کا حمایتی، عیسائیت کی اصلاح کرنے والا، ہندوؤں کا اوتار، مشرق کا بدھ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (احمدیہ موومنٹ نامی کتاب مصنفہ سروالٹر میں ایک قادیانی کا خط)
مرزاقادیانی کو وہم تھاکہ اس پر اردو، فارسی، انگلش اور بعض اوقات عربی میں وحی نازل ہوتی تھی۔ ایک دوبار اس نے بے معنی اور بے ربط ہندسے لکھے اور کہا کہ یہ تمثیلی قسم کی وحی ہے۔ جس میں معتقدوں کے لئے پراسرار پیغام ہیں۔ ان جھوٹے اعلانات سے مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی اور مرزاقادیانی کو چاروں طرف سے شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ علمائے کرام نے اس کے خلاف کفر کے فتوے صادر کردئیے۔ مسلمانوں کے غیظ وغضب سے بچنے کے لئے اس نے برطانوی حکومت کے سایۂ عاطفت میں پناہ لی۔ درحقیقت مرزاقادیانی کی دریدہ دہنی، افتراء پردازیاں اور یاودہ گوئیاں تمام حدود کو پار کر چکی تھیں۔ جو مسلمانوں کے صبر کے لئے ناقابل برداشت تھیں۔ ان کی برہمی حق بجانب تھی۔ ان کا شدید ردعمل غیرمتوقع نہ تھا۔ مسئلہ کے اس پہلو پر علامہ اقبال کا تجزیہ کیسا موزوں ہے۔ ’’اس قسم کے کفر کی ستم رانی جو اسلام کی حدود کو متاثر کرے۔ تاریخ اسلام میں نشاندہی ملتی ہے۔ اسی لئے فطری طور پر عامتہ المسلمین کے جذبات شدت کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہائیوں کے خلاف ایرانی مسلمانوں کے جذبات بے حد شدید تھے اور اسی بناء پر قادیانیوں کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات اتنی شدت لئے ہوئے ہیں۔‘‘
(اسلام اور احمدیت، علامہ اقبال)
لہٰذا قادیانیت اسلام کے خلاف سرکشی وبغاوت تھی۔ زیرزمین بغاوت خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا جال اسلام کے سارے ڈھانچے کو منہدم کرنے کی گہری سازش۔ اس بغاوت کی سرپرستی حکومت برطانیہ نہ کرتی تو کون کرتا؟ اس بغاوت کو برطانوی سامراج تحفظ نہ دیتا تو کون