مرزاقادیانی کے پیروکاروں میں سے ایک بیہودہ گو کا بیان تودریدہ دہنی اور یادہ گوئی کی انتہاء ہے۔ ’’حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اﷲتعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔‘‘ (اسلامی قربانی ص۱۲)
’’مجھے خدا کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵، ۵۶)
کسی جال میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح مرزاقادیانی تیزی سے قلابازیاں کھاتا ہے۔ تاکہ تضاد بیانی کی ذلت سے بچ سکے۔ لیکن ہر نئی قلابازی اس کی خودنقیضی میں اضافہ کرتے ہوئے مزید رسوائی کا باعث بن جاتی۔ چونکہ اس کی نبوت چومکھی تھی۔ اس لئے مسلمانوں کے علاوہ اسے ہندوؤں اور عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب بھی دینے پڑے۔ ہر اعتراض کے جواب میں وہ ایک چولا پہنتا۔ ایک نیا بیان جڑتا اور خود نقیضی وخود تردیدی کی دلدل میں کمر کمر پھنس جاتا اور پھر ایک نیا روپ دھار لیتا۔ یکم؍نومبر ۱۹۰۴ء کو سیالکوٹ کے مقام پر اس پر یہ اسرار کھلا کہ وہ ہندوؤں کا کرشن ہے۔ چنانچہ ایک لیکچر میں گل افشانی کرتے ہوئے کہا: ’’اس خدا نے مجھے ایک موقع پر نہیں بلکہ کئی بار بتایا ہے کہ میں ہندوؤں کے لئے کرشن، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سن کر جاہل مسلمان فوراً پکار اٹھیں گے کہ میں نے مقدس کرشن جسے وہ کافر سمجھتے ہیں۔ کا نام اختیار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن میں آج اتنے بڑے اجتماع میں اس دعویٰ کا اعلان کرتا ہوں۔ کیونکہ جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ وہ کسی کی بدزبانی یا الزام تراشی سے خوف نہیں کھاتے۔ اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا ہے۔ درحقیقت ایسا کامل انسان تھا۔ جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی۔ مجھے کرشن سے محبت ہے۔ کیونکہ میں اس کا بروز ہوں۔ روحانی طور پر کرشن اور مسیح موعود ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ ان میں اتنا ہی فرق ہے۔ جتنا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی اصطلاحات میں۔‘‘
اسی لیکچر میں اس نے اپنے آپ کو برہمن اوتار بھی ظاہر کیا۔ ’’پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں۔ وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ نے باربار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔‘‘