ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
نہیں ہوتا اور زیادہ غلطیاں اسی بے فکری سے ہوتی ہیں اور بے عقلی سے کم اور ایسی ایسی غلطیاں ہوتی ہیں گویا عقلیں مسخ ہوگئی ہیں حتی کہ رسموں کے مقابلہ مین احکام کی تحقیر کی جانے لگی ہے میں بزے گھر میں کے علاج کے لئے عرصہ ہو ایک مقام پر گیا تھا چونکہ وہاں زیادہ قیام ہوا ایک شخص جو عالم تھے ۔ مراد آباد سے ملنے آئے چونکہ انکا ارادہ زیادہ ٹھیر نے کا تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی کتاب ہی پڑھا دو ۔ چنانچہ فرائض کی کتاب سراجی انہوں نے شروع کردی ۔ جب میں حکیم صاحب سے اپنے گھر میں کے حالات کہنے جاتا تو وہ بھی ساتھ جاتے تھے حکیم صاحب کی گود میں ان کا ایک بچہ تھا ۔ وہ اب ماشا اللہ جوان ہیں اور ابھی مجھ سے بیعت ہوکر گئے ہیں ان کے باپ اچھے طبیب تھے ۔ جب ہم وہاں جاتے تو اس بچہ کو سکھلاتے کہ سلام کرو ۔ چنانچہ ایک دفعہ اس نے ہم کو آتا دیکھ کر کہا کہ اسلام علیکم تو حکیم صاحب بولے کہ بیٹا سلام یوں نہیں کیاکرتے یہ کہا کہ آداب عرض ہے میرے میں ہمت تو نہ ہوئی کہ ان کو اس تعلیم پر ٹوکوں لیکن وہ جو میرے دوست تھے بہت جھلائے کہ بیٹے کو تو توفیق سنت کی ہو ۔ اور آپ اس کو تعلیم بدعت کی دیتے ہیں ۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے تو سنت کے موافق سلام کرنے کو گویا بے ادبی سمجھا جاتا ہے اور غضب یہ ہے کہ یہ مرض جہلاء سے متجاوز ہوکر بعض اہل علم میں پہنچ گیا ۔ ایک مقام پر مدرس میں سب علماء موجود تھے ۔ دوران درس میں ایک عالم شریک درس ہونے کے لئے پہنچے انہوں نے کہا السلام علیکم ۔ اس پر مدررس میں ایک عالم شریک درس ہونے کے لئے پہنچے انہوں نے کہا السلام علیکم ۔ اس پر مدرس صاحب نے ان کو اپنے پاس بلایا اور کان میں کہا کہ جوتہ ماردینا بہتر ہے اس سے کہ السلام علیکم کہا جائے ۔ یہ رسم وہ چیز ہے کہ حدیث کا درس ہورہاہے اور اس میں یہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ ان ہی مدرس صاحب کا اور قصہ سئے یہ بزرگ سونے کی انگوٹی پہنے ہوئے حدیث کا درس دے رہے تھے ایک دوسرے عالم درس میں پہنچے جن کو عادت تھی ایسی باتوں پر ٹوکنے کی ۔ انہوں نے پاس جا کے چپکے سے کہا کہ سونے کی انگوٹی مردوں کو پہننا حرام ہے ۔ اس کہنے پر انہیں بڑا غصہ آیا ۔ مولانا نے تو چپکے سے کہا تھا انہوں نے پکار کر کہا کہ تم وہابی ہو ۔ دیکھیے رسموں نے اس قدر چھا لیا ہے لوگوں کو بس اس فریاد کا وقت ہے ۔ اے بہ سرایردہ یثرب بخواب خیزکہ شد مشرق ومغرب خراب