ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
پوچھنے کی ضرورت ہی کیا تھی اس سے تو شبہ ہوتا ہے کہ اگر کسی حکم کی حکمت نہ سمجھتا تو اس کو نہ کرتا تو گویا اپنی رائے اور سمجھ ہی پر احکام کا دار ہوا تو اس صورت میں نبوت ہی کی کیا ضرورت رہی اور مجتہدین کا قیاس تعدیہ حکم شرعی کے لئے اس میں داخل نہیں کیونکہ اس سے مقصود احکام کا علم ہے جو مقاصد سے ہے نہ کہ حکمتوں کا علم جو مقاصد سے نہیں میں اسی پر نکیر کررہا ہوں جس کو آج کل لوگ علم عظیم سمجھتے ہیں کہ نماز کی یہ فلاسفی ہے روزہ کی یہ فلاسفی ہے جماعت کی یہ فلاسفی ہے ارے ایسی تیسی میں گئی فلاسفی ۔ ہم تو غلام ہیں ۔ غلام کا بس فرض یہ ہے کہ حکم بجالا وے کیرانہ میں ایک وکیل صاحب تھے جو بڑی عمر کے تھے اور میرا بچپن تھا ۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ نماز وقت کی کیوں فرض ہوئی میں نے کہا کہ آپ کی ناک یہاں چہرہ پر کیوں لگی پشت پر گدی میں کیوں نہ لگی ۔ کہنے لگے کہ پشت پر بری معلوم ہوتی ۔ میں نے کہا بالکل غلط جب سب کی ناک پشت پر ہوتی بالکل بری نہ معلوم ہوتی ۔ پھر میں نے کہا کہ جب آپ کو اپنا ہی فلسفہ نہیں معلوم تو نماز کا فلسفہ کیا پوچھتے ہو ۔ اور واقعی جس دعوے پر کوئی دلیل شرعی ہی نہ ہو اس میں تو اسلم علم کی نفی ہی ہے ۔ مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے حسین بن منصور حلاج کے متعلق پوچھا گیا کہ کیسے شخص تھے ۔ تحریر فرمایا کہ میرے نزدیک ولی تھے ساتھ ہی یہ بھی سوال تھا کہ ان کا دلایت میں کیا مقام تھا اس کا جواب دیا کہ مجھے مقامات کی خبر نہیں اور بعضوں نے جو کشف سے کسی ولی کامقام بتا بھی دیا تو اس سے نتیجہ کیا ۔ بجلی کمپنی کے حصہ داروں کی فہرست دیکھ کر اگر ہم نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ فلاں کے دس ہزار جمع ہیں تو ہمیں اس اطلاع سے کیا ملا کچھ بھی نہیں اسی اتباع منقول کی فرع ہے کہ اگر خط میں کوئی یہ لکھے کہ بعد سلام عرض ہے تو چونکہ شریعت میں یہ صیغہ سلام کا نہیں بلکہ السلام علیکم ہے اس لئے اس صیغہ سلام کا جواب دینا واجب نہ ہوگا ۔ سلام کا جواب جب ہی واجب ہوگا جب اصل صیغہ سے سلام ہو جو حضور سے منقول ہے مگر افسوس اس وقت لوگوں کو ان چیزوں کی فکر ہی نہیں اور جب فکر نہیں تو عقل بھی کام نہیں دیتی عادۃ اللہ یہ ہے کہ خدائے تعالٰٰی نے انسان کو جو دو دولتیں دی ہیں عقل اور فکر عقل جب ہی کام دیتی ہے جب فکر سے کام لیا جائے ۔ وجہ یہ کہ فکر سے داعیہ پیدا ہوتا ہے پھر داعیہ سے عقل کام دتی ہے اسی فکر کام نہ لینے کا یہ اثر ہے کہ رسمیات وشرعیات میں کوئی فرق محسوس