ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
غور کون کرے شیخ شیرازی کہتے ہیں ۔
بزہد دورع کوش وصدق وصفا ولیکن میفرائے برمصطفی
یعنی زہدو ورع وصدق وصفا بھی بس اتنا ہی اختیار کرو جتنا حضور نے اختیار فرمایا ہے آپ پر بیشی نہ کرو ۔ یہی زیادت تو بدعت ہے جو دوسرے معاصی سے اس لئے سخت تر ہے کہ دوسرے معاصی میں تو معصیت کرنے والا معصیت کو معصیت سمجھتا ہے اور بدعت کا مرتکب بدعت کو عبادت سمجھتا ہے اس کو معصیت ہی نہیں سمجھتا اور ظاہر ہے کہ یہ کتنی سخت بات ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ جاڑوں میں کوئی شخص آپ کو پنکھا جھلے تو آپ کو کتنا ناگوار ہوگا یہ آخر کیوں ۔ اسی لئے کہ اس نے قاعدہ پر زیادتی کیوں کہ ۔ حالانکہ پنکھا جھل کر اس نے اپنے نزدیک راحت پہنچائی مگر آپ کو نوگوار ہوا ۔ اسی طرح دین میں بھی گو کوئی چیز ظاہر میں نافع فی الدین نظر آوے مگر قانون کے خلاف ہونے سے وی مذموم اور ندموم ہوگی دیکھئے عید کی نماز کتنی بڑی شان کی عبادت ہے اور شعائر اسلام ہے لیکن چونکہ اس میں اذان اور تکبر حضور سے منقول نہیں اس لئے اگر اس میں کوئی اذان اور تکبر کہہ دے تو اس نے اپنے نزدیک تو نماز کی زیادہ تکمیل کردی کیونکہ عید کی نماز کی مصلحت علاوہ عبادت کے یہ بھی تو تھی کہ اس ست اسلام کی شوکت ظاہر ہو اور بظاہر اذان اور تکبر سے بوجہ زیادت اعلان کے یہ شوکت زیادہ ہوگئی لیکن یہ فعل پھر بھی بدعت ہوگا کیونکہ حضور نے ایسا نہیں کیا ۔ آگے یہ ایک مستقل سوال ہے کہ حضور نے اذان اور تکبر کیوں نہیں مشروع فرمائی سو اس کی واقع میں تو وجہ ضرور ہے لیکن ہم کو اس کا منصب نہیں کہ اس کی وجہ دریافت کریں ۔ گو اللہ کے بعضے بندوں کو اس کی وجہ بھی معلوم ہے لیکن وہ محض ظنی ہے اس لئے اسلم یہی ہے کہ جب ہمیں اس کی وجہ شارع کی طرف سے نہیں بتلائی گئی تو ہمیں ضرورت ہی کیا ہے اس کے معلوم کرنے کی ۔ ہمارا تو یہ مشرب ہونا چاہئے ۔
زباں تازہ کردن بہ اقرار تو نینگیختن علت از کار تو
اس لئے ہمیں اس کاوش سے غرض ہی کیا ۔ بس ہمارے آقا نے ایک حکم دیا ہے ۔ ہم کو اس کی تعمیل کرنا چاہئے ۔ اس کاوش ہی کے متعلق مجدد صاحب نے یہاں تک لکھا ہے کہ احکام شرعیہ کی حکمتیں تلاش کرنا انکار نبوت کا مرادف ہے کیونکہ اگر یہ شخص نبی کو نبی سمجھتا تو علت