ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
سے پاؤں تک آراستہ پیراستہ ۔ آنکھیں بھی نہایت خوبصورت لیکن غور سے جو دیکھا تو ان میں روشنی نہیں ان کو تعجب ہواکہ اس نماز میں کون سی کسر رہ گئی رفع تردد کے لئے حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں واقعہ عرض کیا گو انہوں نے کوئی تفصیل اس کی نہیں بیان کی تھی کہ اس طرح آنکھیں بند کرکے نماز پڑھی تھی صرف خلاصہ عرض کیا تھا کہ ایسی نماز خطرات سے خالی پڑھی تھی حضرت نے سنتے ہی فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تم نے دفع خطرات کے لئے آنکھیں بند کرلی ہوں گی ۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں حضرت آنکھیں تو میں نے ضرور بند کرلی تھیں تاکہ خطرات نہ پیدا ہوں ۔ حضرت نے فرمایا کہ چونکہ یہ سنت کے خلاف تھا اس لئے یہ صورت نقص دکھلائی گئی ۔ اگر کھلی آنکھوں نماز پڑھتے خواہ کتنے ہی خطرات آتے وہ نماز چونکہ سنت کے موافق ہوتی وہ زیادہ مقبول ہوتی ۔ چونکہ یہ فعل سنت کے خلاف تھا اس لئے نماز میں مقبولیت کم ہوئی ۔ پھر حضرت اقدس مد ظلہم العالی نے فرمایا اجی وہاں تو غلامی کو دیکھا جاتا ہے کہ کون کتنا متنع ہے ۔ وہاں خطرات کو پوچھتا کون ہے ۔ تو حضرت ایسی چیز ہے سنت ۔ اور سنئے اس میں اختلاف ہے کہ سفر کی نماز کو اگر بجائے قصر کے پورا لے تو جائز ہے یا نہیں ہمارے امام صاحب تو ناجائز فرماتے ہیں اور دوسرے بعض ائمہ جائز فرماتے ہیں لیکن اس پر سب کا اتفاق ہے کہ افضل قصر ہی ہے حالانکہ بظاہر یہ عجیب سے بات ہے کہ دو رکعتیں رو افضل ہیں اور چار رکعتیں افضل نہیں ۔ گوفی نفسہ تو دو رکعتوں سے چار رکعتیں ہی افضل ہیں لیکن قصر میں بجائے بعض کے نزدیک جائز ہے لیکن چونکہ حضور نے ایسا نہیں کیا لہذا سب کے نزدیک دو افضل ہیں چار سے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ دیکھئے اگر کسی کے محبوب کے چھ انگلیاں ہوں تو وہ چھ انگلیاں پسند نہیں کرے گا بلکہ اس کے لئے پانچ ہی پسند کرے گا تو بعضی زیادت بھی پسند نہیں ہوتی ۔ اسی طرح وہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے محبوب کی سی شکل کسی کی ہے ۔ اور دیکھئے موٹی بات ہے کہ حکیم صاحب نے کوئی دوا پانچ ماشہ لکھی اور تم دس ماشہ ڈال دو کہ جلدی فائدہ ہوتو وہ پانچ ماشہ بھی گئے گذرے ہوئے حالانکہ دس ماشہ زیادہ ہے اور پانچ ماشہ کم ہے لیکن پانچ ماشہ قاعدہ کے موافق ہے گو کم ہے اور دس ماشہ گو زیادہ ہے لیکن قاعدہ کے موافق نہیں اس لئے اس کا اثر ہوگا اس کا نہ ہوگا ۔ اور ان کے ایسے نظائر موجود ہیں لیکن