ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
جو اصل سنت ہے اس پر عمل نصیب ہو ان کی یہ نیتیں تھیں گو بعض متاخرین کی یہ نیت نہ رہی ہو اکابر کی یہ حالت تھی کہ ایک بزرگ نے خربوزہ عمر بھر نہیں کھایا تھا کہ معلوم نہیں حضور صل اللہ علیہ وسلم نے کس طرح تراشا تھا اور پیغمبروں کے بھجنے کا راز اسی تثبہ کی تعلیم ہے کہ ایسے بنو جیسے یہ پیغمبر ہیں ورنہ بہت آسان بات تھی کہ آسمان سے چھپے ہوئے اشتہار برس جایا کرتے جن میں نماز کی اور جنازے وغیرہ کی تطیمیں اور تصویریں ہوتیں سب احکام اسی طرح اشتہاروں کے ذریعہ سے ناول کردیئے جاتے کیونکہ رسول نے اور کیا کیا سوائے اس اسی طرح اشتہاروں کے ذریعہ سے نازل کردیئے جاتے کیونکہ رسول نے اور کیا کیا سوائے اس کے کہ احکام خدا وندی لوگوں کو پہنچائے ۔ لیکن رسولوں کو جو اللہ تعالٰی نے بھیجا تو اسی لئے کہ امت کے سامنے نمونہ بھی آجاوے کہ ایسے بنو سو یہ بات اشتہاروں سے نہیں ہوسکتی تھی ۔ اس کی ایک حسی مثال ہے کہ آپ اچکن ترشوائیں تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کاغز پر یاداشت لکھ کر دیدیں کہ گربیان اتنا ہو دامن اتنا ہو کلی اتنی ہو چولی اتنی ہو چلی اتنی ہو ۔ اس میں مشقت تو زیادہ ہے اور پھر بھی امید نہیں کہ بالکل اس ناپ اور اس قاعدہ کی بن سکے اور ایک یہ صورت ہے کہ آپ نے نمونہ دیدیا کہ بس اس نمونہ کی اچکن بنالاؤ اس میں مشقت بھی کم ہوئی اور کام بھی زیادہ ہوا یعنی بالکل نمونہ کے مطابق اچکن تیار ہوگئی ۔ تو رسول کی یہ شان ہے جیسے نمونہ کا کرتہ یا اچکن ۔ اسی کو اللہ تعالٰٰی فرماتے ہیں ۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ۔ اسوۃ یہی ہے اس پر ایک قصہ عجیب یاد آیا ہمارے حضرت کے ایک خلیفہ کا ۔ ایک صاحب مولوی محب الدین ولایتی حضرت کے مجاز تھے وہ صاحب کشف بہت بڑے تھے ۔ ایک دفعہ ان کو خیال ہوا کہ حدیث میں ایسی نماز کی بڑی فضیلت آئی ہے جس کے لئے وضو کامل کیا جائے پھر دو رکعت ایسی پڑھی جاویں کہ ان میں حدیث النفس نہ ہو وہ عالم بھی تھے ۔ انہوں نے دل میں کہا کہ افسوس ساری عمر میں ایسی دو رکعت بھی نصیب نہ ہوئیں ۔ لاؤ دو رکعت تو کوشش کرکے ایسی ہی پڑھ لیں ۔ چنانچہ اس میں کامیاب ہوگئے ۔ اور چونکہ خطرات اکثر آتے ہی ہیں ان کو روکنے کے لئے انہوں نے نماز میں آنکھیں بند کرلیں ۔ کیونکہ نظر اگر منتشر ہوتی ہے تو عادۃ یکسوئی نہیں ہوتی اور ادھر ادھر کے خیالات آنے لگتے ہیں ۔ آنکھیں بند کرنے سے ان کو یکسوئی ہوگئی اور کوئی خطرہ نہیں آیا ۔ پھر ہوس ہوئی کہ دیکھیں عالم مثال میں اس نماز کی کیا شکل ہوگی ۔ متوجہ ہوکر دیکھا اس نماز کی صورت سامنے آئی ۔ نہایت حسین جمیل سر