ملفوظات حکیم الامت جلد 9 - یونیکوڈ |
|
زمانہ مبارک کے بعد خواہ کسی دینی ضرورت ہی سے تجویز کیا کیا ہو اور یہ افضیلت لعینہ ہے گو کسی عارض سے کسی خاص حالت میں بغیرہ زیادہ اہتمام کے قابل سمجھا جاوے ) پھر حضرت نے فرمایا کہ ہمارے سلسلہ کے ایک بزرگ جن کا انتقال ہوچکا ہے کہتے تھے کہ ہمارے اکابر کے سلسلہ میں جو اس قدر جلد وصول الی اللہ ہوجاتا ہے اور اس میں نہ زیادہ ریاضات ہیں نہ مجاہدات لیکن پھر بھی بہت جلد وصول لی اللہ نصیب ہوجاتا ہے وہ سب اتباع سنت کی برکت ہے بخلاف دوسرے سلسلوں کے کہ ان میں بہت زیادہ مجاہدایت اور ریاضات وازکار اشغال کے بعض اوقات عمر بھر بھی مقصود تک رسائی نصیب نہیں ہوتی ۔ وجہ یہ کہ اتباع سنت کی برکت سے کشش ہوتی ہے اور یہ حضرات مقصود حقیقی تک کشش سے پہنچے ہیں یعنی جذب سے اور دوسرے سلسلہ والے سلوک سے پہنچے ہیں اور مسلم ہے کہ طریق جذب طریق سلوک سے اسرع ہے اور ان بزرگ نے خود کہا ۔ اول مجھ سے سوال کیا تھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں بہ نسبت اور سلسلوں کے بہت جلد وصول الی اللہ ہوتا ہے میرے زہن میں جواب نہیں آیا پھر انہوں نے یہ تقریر فرمائی اور اس کا یہ راز بیان کیا واقعی کیا سچی بات کہی ۔ دیکھئے اگر کوئی کسی کا محبوب مجازی ہے اور دو اجنبی شخص اور ہیں ایک تو وہ ہے جس میں آپ کے محبوب کی سی ادائیں ہیں گو وہ بہت آراستہ پیراستہ نہیں اور ایک وہ ہے جس میں ادائیں تو وہ نہیں ہیں لیکن اس کا لباس اعلی درجہ کا ہے مانگ پٹی سے بھی درست ہے زیورات سے بھی آراستہ وپیراستہ ہے اب آپ ہی دیکھ لیجئے کہ آپ کو کدھر کشش زیادہ ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ جس میں آپ کے محبوب کی سی ادائیں ہونگی اسی کی طرف بار بار نطر اٹھے گی کہ اس کو دیکھوں اور اس کی ادائیں دیکھوں ۔ بس ایسی ہی برکت ہے اتباع سنت کہ کہ تثبہ بالمحبوب سے محبوب ہوجاتا ہے اور اسی کا اساطین امت نے ہمیشہ اہتمام اور کوشش سبب ہوگیا ہے بعض مسائل میں اختلاف کیا کہ ہر بزرگ نے یہ چاہا کہ ادنی درجہ بھی تثبہ کافوت نہ ہو اور ظاہر ہے کہ دلائل کے تنوع کے ہوتے ہوتے اتنی کاوش کے لئے اختلاف لازم ہوگا پس اس حالت میں بعضے لوگوں کو اعتراض ہے کہ علماء امت ذرا ذرا سی بات جھگڑتے ہیں غفلت ہے اس اختلاف کی بناء سے جس سے معترضین کو ان کا کمال نقص نظر آتا ہے غرض اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر شخص کی یہ کوشش رہی کہ