دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
¯عوت وتبÙ |
|
گیا، بلکہ اس بارے میں امت کی عقل سلیم پر اعتماد کیا گیا ہے اور ان فرائض کی ادائیگی کو اس کی صلاحیتوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ غیر منصوص بالوضع کی واضح مثال لباس کا مسئلہ ہے، لباس ساتر ہو، ٹخنوں سے اونچا ہو، گھٹنوں سے نیچا ہو، تفاخر اور تکبر کا لباس نہ ہو، کوئی حرام وناجائز مثلاً مردوں کے لئے ریشم نہ ہو، پس لباس بھی منصوص اور اس کی یہ شرائط بھی منصوص ہیں لیکن لباس کی شکل لبا س کا رنگ اور اس کی قطع وغیرہ غیر منصوص ہیں ، اسی میں امت کے لئے بہت سی سہولتیں ہیں ان کو امت کی تمیز اور عقل عام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسری مثال مساجد کی ہے، مساجد بھی مطلوب ہیں اور مساجد کی نظافت بھی مطلوب ہے اور یہ بھی مطلوب ہے کہ ان میں ذکراللہ ہو اور دوسرے مقامات سے ممتاز ہوں ، مگر ان کی کوئی خاص طرز تعمیر مطلوب نہیں ، اسی کا نتیجہ ہے کہ عالمِ اسلام میں مساجد مختلف وضع کی پائی جاتی ہیں ، یہاں تک کہ مینارے اور گنبد بھی مساجد کے لئے شرائط میں نہیں تھے، ہندستان کی مسجدوں میں دو میناروں کا رواج ہے، الجزائر ومراکش کی مساجد میں ایک مینار ہوتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی اور پہلی مسجد بیت اللہ کا کوئی مینار نہیں ۔ اب دعوت الی اللہ کی مثال لیجئے،اللہ کی طرف اور اس کے دین کی طرف بندو ں کو بلانا فرض ہے ، انفرادی ہو یا اجتماعی ، تقریر سے ہو یا تحریر سے ، علا نیہ ہو یا خلوت میں ، اس کی کوئی شکل معین نہیں ، نوحؑ کی زبان سے قرآن پاک میں واضح کردیا گیا ہے کہ دعوت کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں ، قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَھَاراً (سورہ نوح، پ۲۹)( حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا اے میرے رب!میں نے اپنی قوم کے سامنے رات میں بھی دین کی اور توحید کی