دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
¯عوت وتبÙ |
|
کرنا ضروری ہے، حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ اس کو بدعت فرمارہے ہیں ، حسب مصلحت اس میں ترمیم یقیناًکی جا سکتی ہے،کیونکہ جب شریعت نے کسی خاص طریقہ کا پابند نہیں کیا تو ہم یہ پابندی کیوں کر عائد کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کا اہم مضمون بصیرت افروز چشم کشا ہے موقع کی مناسبت سے اس کا کچھ حصّہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ ارشاد فرماتے ہیں : دین کا جو حصہ ہم تک پہنچا ہے اس کی دو قسمیں کی جاسکتی ہیں ، ایک تو وہ حصہ ہے جو اپنی خاص ہیئت وشکل کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے اور اس کی ہیئت وشکل مطلوب ہے، اس کو ہم ’’منصوص بالوضع‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ دینی امور ہیں جو اپنی خاص ہیئت وصورت کے ساتھ آنحضرتﷺ سے ثابت ہیں ، مثلاً ارکان دین اور بہت سے ایسے فرائض جن کو نہ صرف جناب رسول اللہﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بتایا بلکہ ان کی شکلیں زبانی بھی بتائیں ، اور خود کرکے بھی دکھلایا، مثلاً نماز، حج، وضو وغیرہ۔ دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں نفس شئی مطلوب ہے لیکن بہت سے حکمتوں اور مصلحتوں کی بناء پر اور زمانہ کے تغیر اور امت کے لئے وسعت کا خیال کرکے آپ نے ان کی شکلیں متعین نہیں کیں ، صرف شئی بتلادی کہ یہ مقصود ہے، یہ چیزیں خود منصوص ہیں ،لیکن ان کی کوئی خاص وضع وہیئت منصوص نہیں ، مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ، علم ودین کے سلسلہ کو چلانا اور احکام کا امت تک پہنچانا، یہ سب امت سے مطلوب ہے، اگر امت ان کو چھوڑ دے اور بالکل ترک کردے تو وہ گنہگار ہوگی، لیکن صرف یہ اعمال مقصود ہیں ان کی کوئی خاص شکل طریقہ متعین نہیں کیا