دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
عوت وتب |
|
سب کچھ ملے گا یعنی ہر موڑ پر وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریں گے، اس سے تم کو سب کچھ ملے گا یعنی دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ نصیحت ہے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی اپنے تمام تبلیغی کام کرنے والوں کے لیے کہ بڑوں کی ماتحتی قبول کرو۔ اب رہی یہ بات کہ بڑے کون ہیں ، ان سے کون لوگ مراد ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے جن کو بڑا بنایا، جن کی بڑائی کو تسلیم کیا، جو نبی کے وارث اور جانشین ہیں ، جن کی فضیلت کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، جن کی تکریم و تعظیم کا آپ نے حکم دیا، وہ کون ہیں علماء حق اور مشائخ دین یہی امت کے بڑے اور نبی کے وارث اور جانشین ہیں ،رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: إنَّ الْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْأنْبِیَائِ(مشکوۃ کتاب العلم) بے شک علماء نبی کے وارث اور جانشین ہیں مولانا محمد الیاس صاحبؒ انہیں کی ماتحتی میں کام کرنے اور ان کی صحبت و خدمت و محبت کی ہدایت فرمارہے ہیں ، اور اس کام کو سب سے اعلیٰ فرمارہے ہیں ،کیونکہ ان کی رہنمائیوں کی وجہ سے بہت سے فتنوں شیطانی ہتھکنڈوں اورگمراہیوں سے حفاظت رہتی ہے، اسی کو جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’فَقِیْہٌ وَاحِدٌ أشَدَّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ ألْفِ عَابِدٍ‘‘ (مشکوۃ شریف، کتاب العلم) ترجمہ: ایک فقیہ عالم شیطان پرہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔چھوٹے بڑوں کے اور بڑے چھوٹے کے محتاج ہیں فرمایا:چھوٹوں سے بڑوں کی عزت ہے، اوربڑوں سے چھوٹوں کی ترقی وتربیت ہے۔ چھوٹے جتنے بڑوں کے محتاج ہیں اس سے زیادہ بڑے چھوٹوں کے محتاج ہیں ، چھوٹوں کی وجہ سے بڑوں کو اللہ کی طرف سے بہت زیادہ (اجر) ملتا ہے۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاسؒص:۱۸-۱۹)