دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
عوت وتب |
|
اللہ کے وعدوں پر یقین اوراس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کام کیجئے ان شاء اللہ کامیابی ہوگی فرمایا:اللہ تعالیٰ نے جو وعدے فرمائے ہیں بلا شبہ وہ بالکل یقینی ہیں اور آدمی اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے تجربات کی روشنی میں جو کچھ سوچتا ہے اور جو منصوبے قائم کرتا ہے وہ محض ظنی اور وہمی باتیں ہیں ،مگر آج کا عام حال یہ ہے کہ اپنے ذہنی منصوبوں اور اپنے تجویز کئے ہوئے وسائل واسباب اور اپنی سوچی ہوئی تدابیرپر یقین واعتماد کرکے لوگ ان کے مطابق جتنی محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں اللہ کے وعدوں کی شرطیں پوری کرکے ان کا مستحق بننے کے لئے اتنا نہیں کرتے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے خیالی اسباب پر ان کو جتنا اعتماد ہے اتنا اللہ کے وعدوں پر نہیں ہے اور یہ حال صرف ہمارے عوام کا ہی نہیں ہے، بلکہ سب ہی عوام وخواص إلّا من شاء اللہ، الٰہی وعدوں والے یقینی اور روشن راستہ کوچھوڑ کر اپنی ظنی اور وہمی تدبیروں ہی میں الجھے ہوئے ہیں ، پس ہماری اس تحریک کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی سے اِس اصولی اور بنیادی خرابی کو نکالنے کی کوشش کی جائے، اور ان کی زندگیوں اور سرگرمیوں کو ظنون واوہام کی لائن کے بجائے الٰہی وعدوں کے یقینی راستہ پر ڈالا جائے، انبیاء علیہم السلام کا طریقہ یہی ہے اور انھوں نے اپنی امتوں کو یہی دعوت دی ہے کہ وہ اللہ کے وعدوں پر یقین کرکے اور بھروسہ کرکے ان کی شرطوں کو پورا کرنے میں اپنی ساری کوششیں صرف کرکے ان کے مستحق بنیں ، اللہ کے وعدوں کے بارے میں جیسا تمہارا یقین ہوگا ویسا ہی تمہارے ساتھ اللہ کا معاملہ ہوگا، حدیث قدسی ہے:اناعند ظن عبدی بی۔بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھتا ہے اسی کے مطابق میں اس سے معاملہ کرتا ہوں ۔(ملفوظات حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ ص۹۸ملفوظ:۱۱۷)