دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
عوت وتب |
|
الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْاللّٰہَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ۔( سورہ توبہ، پ۱۱) ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور صادقین کی معیّت اختیار کرو۔ اسی طرح اگر کسی کو بزرگوں کی صحبت تو حاصل ہے لیکن خود عمل کچھ نہیں کرتا تو محض بزرگوں کے پاس رہنے اور ان کی صحبت سے کچھ حاصل نہ ہوگاجب تک کہ آدمی کی خود عملی زندگی درست نہ ہو۔بعض حالات میں یہ دینی کام دنیا بن جائے گا فرمایا:حکم کے تحت حلال وحرام کا دھیان کرنا دین ہے، اور حکم سے قطع نظر کرکے کوئی وجہ ضروری قرار دینا بے دینی ہے۔ فرمایا:دین کا کام جی لگنے کی وجہ سے کرنا دنیا ہے۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ ص۳۲) فائدہ: دین کی حقیقت یہی ہے کہ شرعی حدوو میں رہتے ہوئے اور حلال وحرام کی تمیز کرتے ہوئے اللہ کا حکم سمجھ کر اسی حکم کے تحت کام کیا جائے، ورنہ کتنے ہی اچھے جذبہ اورکتنے ہی اچھے خلوص سے کوئی بھی کام دین کے نام سے کیا جائے لیکن حلال وحرام یعنی شرعی حدود قیود کا لحاظ کئے بغیر کیا جائے تو یہ دین نہیں بلکہ بے دینی ہے، شرعی حدود وقیود کو احکام ومسائل بھی کہتے ہیں ، جوعلم دین اور علماء حق کے ذریعہ معلوم ہوتے اور ہوسکتے ہیں ، ہردینی کام میں اس پہلو کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ورنہ ہماری دینی بھی بے دینی بن کر رہ جائے گی۔ اسی طرح دین کاکام محض جی لگنے کی وجہ سے کرنا یہ بھی خطرہ سے خالی نہیں ، دین کاکام اللہ کا حکم سمجھ کر، نبی کافرمان اور سنت سمجھ کر، اللہ کی رضا، جنت کے حصول ، دوزخ سے نجات، اجر وثواب جس کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کی طلب کی غرض سے