دعوت و تبلیغ کے اصول و آداب ۔ اور کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہدایات اور اہم نصائح |
¯عوت وتبÙ |
|
دعوت رکھی اور دن میں بھی)ثُمَّ اِنّیْ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَاراً (سورہ نوح، پ۲۹) (پھر میں نے بالاعلان بھی آپ کا پیغام ان کو پہنچایا اور چھپ چھپ کر تنہائیوں میں بھی ان سے آپ کی بات کہی)۔ لہٰذا دعوت دین کا کام کرنے والے ہر فرد جماعت کو اختیار ہے کہ وہ جس ماحول میں اپنے لئے جو طریقہ صحیح جانے وہ مقر ر کرلے اور اپنی سعی وجدوجہد کا جو طرز منا سب اور مفید سمجھے وہ اختیار کرے اس میں کسی کو جائز اور نا جائز کہنے یا کوئی روک ٹوک لگا نے کا حق حاصل نہیں ہے ، جب تک کہ اس میں کوئی عنصر شامل نہ ہوجا ئے جو شرعی طورپر منکر یا مقاصد دینیہ کے لئے مضر ہو ۔ بعض عوامی حلقوں میں اس وقت ان دونوں حصوں کو خلط ملط کردیا جاتا ہے، منصوص کو غیر منصوص کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور غیر منصوص کو منصوص کے مقام پر پہنچادیا جاتا ہے،اس کے نتیجہ میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور مختلف اداروں اور دعوتوں میں اکثر تنازع کی شکل پیدا ہوجاتی ہے، اگر ہم ان چیزوں میں فرق سمجھ لیں تو بہت سی مشکلات حل ہوجائیں گی، سینکڑوں تنازعوں کا سدّباب ہوجائے گا اور بہت سی ذہنی الجھنیں ختم ہوجائیں گی۔ چیزوں کی اصلی ہیئت سمجھنے اور ان کو ان کے صحیح مقام پر رکھنے کا یہ پیمانہ ہمارے ہاتھ آگیا اس کے بعد صحیح اصول پر چلنے والی اور مخلصانہ دینی دعوتوں ، دینی اداروں اور حلقوں کے درمیان تقابل، تصادم اور اختلاف کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا، فرق جو رہ جاتا ہے وہ صرف اپنے اپنے تجربوں اور حالات کے مطالعہ کا ہے کہ کام کی کون سی شکل اور طریقہ زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہے اور کس سے وہ نتائج ومقاصد حاصل ہوتے ہیں جو اس کام سے مطلوب ہیں ۔