جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
اعظم کا یہی قول ہے جیسا کہ ہم ان شاء اﷲ عنقریب کتاب الآثار کے حوالے سے نقل کریں گے۔ اس لیے جامع الصغیر کی اس عبارت میں ایسا عموم مراد نہیں ہے جو اس عبارت کی تخریج اور تفصیل کرنے والوں نے بیان کیا ہے اور امام ابوحنیفہ اس بات سے بری ہیں کہ وہ ان چار شرابوں کے علاوہ باقی نشہ آور شرابوں کو حلال قرار دیں اس پر حد لازم نہ کریں اور اس کی طلاق واقع نہ کریں۔ اب ہم ٹھوس حوالہ جات کے ساتھ اس سلسلہ میں امام اعظم ابو حنیفہ کا موقف بیان کرتے ہیں۔ 1۔ علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں: فالنبیذ ہو ماء التمر اذا طبخ ادنی طبخۃیحل شربہ فی قولہم مادام حلوا واذا غلا واشتد وقذف بالزبد، عن ابی حنیفۃ وابییوسفیحل شربہ للتداوی والتقوی الا المحدی المسکر بنایہ شرح ہدایہ جلد2 ص704، 705، مطبوعہ ملک سنز، فیصل آباد کھجور کے پانی کو معمولی جوش دیا جائے تو یہ نبیذ ہے فقہاء احناف کے قول کے مطابق اس کا پینا جائز ہے بشرطیکہیہ میٹھا ہو جائے اور جب یہ گاڑھا ہو جائے اور جھاگ چھوڑ دے۔ تو امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دوا اور طاقت حاصل کرنے کے لیے اس کا پیناجائز ہے البتہ اگر یہ نشہ آور ہو تو اس کا پینا جائز نہیں ہے۔ نبیذ ان چار شرابوں کے علاوہ ہے اور اس عبارت میں تصریح ہے کہ جب وہ نشہ آور ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا پینا جائز نہیں ہے۔ 2۔ علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں: و روایۃ عبدالعزیز عن ابی حنیفۃ وسفیان انہما سئلا فیمن شرب البنج فارتفع الی راسہ وطلق امراتہ ہل یقع؟ قالا ان کان یعلمہ حین شربہ ما ہو