جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
3۔ و من نقب البیت وادخل یدہ فیہ واخذ شیئًا لم یقطع ہدایہ اولین ص526 جو گھر میں نقب لگائے یا باہر سے ہاتھ داخل کر کے کوئی چیز چرا لے تو اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ کیا فقہ حنفیہ قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے ص27، 28تیسرے اعتراض کا جواب ہم پہلے فقہ حنفی سے چوری کی سزا نقل کرتے ہیں اور پھر ان خاص واقعات کی وضاحت کرتے ہیں۔فقہ حنفی میں چوری کی سزا 1۔ قدوری میں ہے: جب کوئی عاقل بالغ کسی محفوظ جگہ سے دس درہم چرائے خواہ وہ سکہ دار ہوں یا بے سکہ ہوں یا دس درہم کی کوئی چیز ہو تو اس پر قطع (یعنی اس کا ہاتھ کاٹنا) واجب ہے۔ اشراق نوری ترجمہ قدوری کتاب السرقہ قطاع الطریق ص320 2۔ کنز الدقائق میں ہے: شرع میں چوری اسے کہتے ہیں کہ کوئی عاقل بالغ آدمی دس درہم چہرہ شاہی کی مقدار (خواہ درم میں ہوں یا اتنییا اس سے زیادہ قیمت کا مال ہو) کسی محفوظ جگہ سے یا پہرے میں سے پوشیدہ لے لے پس اگر اس طرح لینے کا وہ خود ایک دفعہ اقرار کر لے یا دو آدمی گواہی دے دیں تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ احسن المسائل اردو ترجمہ کنز الدقائق کتاب السرقہ ص186