جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
تیرہویں اعتراض کا جواب جواب نمبر1: یہ مسئلہ اختلافی ہے محدثین کا اس میں اختلاف ہے جیسا کہ علامہ عبدالرحمن الدمشقی الشافعی رحمہ اللہ تعالیفرماتے ہیں کہ وقتل صید حرم المدینۃ حرام وکذا قطع شجرہ وہل یضمن؟ للشافعی قولان، الجدید الراجع منہما لا یضمن وہو مذہب ابی حنیفۃ والقدیم المختار انہ یضمن بسلب القاتل والقاطع وہو مذہب مالک واحمد رحمۃ الامۃ ص140 یعنی حرم مدینہ میں شکار اور قطع شجر کے بارے میں اختلاف ہے، امام شافعی رحمہ اللہ تعالیکے ایک قول کے مطابق (جو راجح بھی ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیکے قول کے موافق بھی) اس پر ضمان نہیں ہے اور دوسرے قول کے مطابق (جو امام مالک و امام احمد کے موافق ہے) اس پر ضمان ہے۔ علامہ نور الدین علی بن احمد سمہودی فرماتے ہیں: اتفق الشافعی ومالک واحمد رحمہم اللہ تعالیعلی تحریم الصید حرم المدینۃ واصطیادہ وقطع شجرہ وقال ابو حنیفۃ لا یحرم شیء من ذلک وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی ج1 ص105 یعنی امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تعالیمتفق ہیں کہ حرم مدینہ میں شکار اور قطع شجر حرام ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک حرام نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں مختلف مسالک ہیں، پہلا مسلک امام ابو حنیفہ، امام سفیان ثوری اور امام عبد اﷲ بن مبارک رحمہم اللہ تعالیوغیرہ کے نزدیک