جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
فتاویٰ عالمگیری کے حوالہ کی وضاحت طالب الرحمن نے عالمگیری سے جو مسئلہ نقل کیا ہے اس کا جواب ہماری طرف سے مولانا محمد ایوب نے بڑی تفصیل سے مولانا عبدالعزیز نورستانی غیر مقلد کو دیا ہے ہم وہ بھییہاں پر نقل کرتے ہیںقارئین کرامکے فائدہ کے لیے۔یہ سوال عبد العزیز نورستانی نے اپنے رسالہ میں احناف سے کیا تھا۔ مولانا ابو ایوب صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: جس طرح احادیث کی کتابوں میں بعض احادیث صحیح، بعض منسوخ اور بعض ضعیف و متروک ہوتی ہیں۔ اسی طرح کتب فقہ اور اس کے شروح اور فتاویٰ میں بھی بعض اقوال مفتی بہا اور معمول بہا ہوتے ہیں۔ مذہب حنفی اسی سے عبارت ہے۔ اسی طرح بعض غیر مفتی بہا مرجوح اور شاذ اقوال ہوتے ہیں۔ لہٰذا مرجوح اور غیر مفتی بہا اقوال کو بہانہ بنا کر مذہب حنفی پر اعتراضات کرنا یہ منکرین حدیث کا شیوہ ہے، مسلمان کا نہیںکیونکہ منکرین حدیث بھی ضعیف اور موضوع احادیث کو بہانہ بنا کر ذخیرہ احادیث سے انکار کرتے ہیں اور اسلام پر کئی قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ اسی طرح ہے کہ کتے اور گدھے کو شرعی طریقہ سے ذبح کر کے اس کا گوشت فروخت کیا جائے تو کیایہ جائز ہے یا ناجائز؟ اس میںفقہائے احناف کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض جواز کے قائل ہیں۔ اکثر محققین احناف عدم جواز کے قائل ہیں۔جو جائز سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت سے نجاست زائل ہوتی ہے اور جن کے نزدیک فروخت کرنا جائز نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ ذبح کرنے سے گوشت سے نجاست زائل نہیں ہوتییہی قول مفتی بہ اور راجح ہے۔