جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
پہلے اعتراض کا جواب قارئین کرام!طالب الرحمن نے قرآن پاک کی جو پہلی آیت نقل کی ہے وہ مکمل نقل نہیں فرمائی اگر مکمل نقل فرما دیتے تو مسئلہ قصاص کی اچھی طرح وضاحت ہو جاتی۔ آپ نے پہلے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 178 کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ سےفِی الْقَتْلٰیتک جب کہ آیتعَذَابٌ اَلِیْمٌ پر ختم ہو تی ہے۔ پھر آپ نے آیت نمبر 179 نقل فرما دی ہے۔ درمیان سے آیت نمبر 178 کا زیادہ تر حصہ نکال دیا،یہ کیوں کیا؟ فقہ کی کتابوں کے فوٹوسٹیٹ سے کتاب بھر دی ہے مگر قرآن کی آیت نقل کرنے کے لیے آپ کے پاس جگہ نہیں تھی۔ اگر آیت نمبر179 بھی نقل کرنی تھی تو آیت178 مکمل کرنے کے بعد پھر اس کو نقل کر دیتے۔آیت کا کچھ حصہ نکالنے کی وجہ آیت کا کچھ حصہ نکالنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی تھیں۔ طالب الرحمن صاحب نے ایک کا ذکر کیا اور دو کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے نکال دیا۔ پہلی بات تھی قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص لینا۔ دوسری بات تھی قصاص معاف کرنا اور تیسری تھی دیت وصول کرنا جیسا کہ اسی آیت میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ”پھر جس کو معاف کیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو تابعداری کرنی چاہیے موافق دستور کے۔“ اس مکمل آیت میں تین مسئلوں کا ذکر ہے۔جیسا کہ خود غیر مقلدین کے