جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
جب حد واجب ہو گئی اور مرد زانیمحصن ہے تو اس کو پتھروں سے رجم کیا جاوے یہاں تک کہ وہ مر جاوے۔ فتاویٰ ہندیہ ترجمہ فتاویٰ عالمگیریہ جلد سوم کتاب الحدود باب دوم ص258 اور غیر محصن کے متعلق لکھا ہے: اور اگر غیرمحصن ہو تو اس کی حد سو کوڑے ہیں۔ فتاویٰ ہندیہ ترجمہ فتاویٰ عالمگیریہ جلد سوم کتاب الحدود باب دوم ص260 ہمارے حنفی علماء نے تو مستقل حدود پر اور تعزیر پر خاص کر حد رجم کے متعلق کئی کتابیں لکھی ہیں۔ اور فقہ حنفی کی تقریباً سبھی وہ کتابیں اور فتاویٰ جات جو تمام احکام پر حاوی ہیں ان میں کتاب الحدود موجود ہے۔ طالب الرحمن صرف مولانا محمد متین ہاشمی کی اسلامی حدود، اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ، اسلام کا قانون شہادت جلد اول حصہ فوجداری وغیرہ دیکھ لیں۔ خوب تسلی ہو جائے گی۔ ہم نے یہاں پر سات کتابوں کے حوالہ جات نقل کر دیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ فقہ حنفی میں زنا کی سزا موجود ہے اوریہ وہی سزا ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ اب رہا ہدایہ کا مسئلہ جو طالب الرحمن نے نقل کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نابالغ اور دیوانے پر تو سقوط حد ظاہر ہے کہ دونوں مکلف نہیں۔ رہی بات عورت کی تو اس پر حد اس لیے نہ ہو گی کہ زنا فعل مرد کا ہے۔ عورت فعل کا محل ہے۔ اسی لیے مرد کو واطی زانی کہتے ہیں اور عورت کو موطوہ مزنیہ۔ البتہ مجازاً عورت کو بھی زانیہ کہہ لیتے ہیں۔ زنا اس شخص کے فعل کو کہتے ہیں جو فعل سے بچنے کا مخاطب ہو اور کرنے سے