جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
4۔ ہدایہ میں ہے: اور جب حد واجب ہو گئی اور زانیمحصن (شادی شدہ) ہے تو حاکم (یا قاضی) اسے پتھروں سے رجم (سنگسار) کرے حتی کہ موت واقع ہو جائے۔ ہدایہ کتاب الحدود، فصل فی کیفیتہ الحد و اقامتہ صاحب ہدایہ مزید آگے لکھتے ہیں: اور اگر وہ (زانی) محصن نہ ہو اور آزاد ہو تو اس کی حد سو/100 کوڑے ہے۔ ہدایہ کتاب الحدود، فصل فی کیفیتہ الحد و اقامتہ 5۔ در مختار میں ہے: اور زانیمحصن کو پتھر مارے جائیں میدان میں، یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ در مختار مترجم جلد دوم ص463، مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی در مختار میں اس سے کچھ آگے لکھا ہے: اور زانی غیرمحصن کو سو کوڑے مارے جائیں اگر وہ آزاد ہو۔ در مختار جلد دوم کتاب الحدود ص465 6۔ الفقہ الحنفی وادلتہ اردو میں ہے: زانی اگر محصن ہو تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے پتھروں سے رجم کیا جائے حتی کہ وہ مر جائے۔ اس کی دلیل حدیث ماعز اسلمی رضی اللہ تعالی عنہہے۔ جلد دوم ص290، 291، ادارہ اسلامیات، انار کلی، لاہور آگے مزید لکھا ہے: اگر زانی غیرمحصن ہو اس کی سزا سو کوڑے ہیں۔ جلد دوم ص294، ادارہ اسلامیات، انار کلی، لاہور 7۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: