جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
نہ ہو گا کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر تعزیر بھی نہیں لگے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس پر قصاص نہیں ہے۔) اور اسی پر فتویٰ ہے۔ فتاویٰ عالمگیری مترجم جلد9 ص300 نوٹ: عالمگیری میں تو یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے قول پر فتویٰ ہے مگر فقہ حنفی کی بعض کتابوں میں”فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے“ نقل کیا گیا ہے یہ تو فقہ حنفی کا مسئلہ ہے۔ طالب الرحمن کے نزدیک ایسی صورت میں اگر قصاص لازمی ہے تو طالب الرحمن قرآن سے قصاص ثابت کر دے ہم مان لیں گے۔مسئلہ نمبر4 طالب الرحمن نے یہ مسئلہ بھی پورا نہیں لکھا۔ پورا مسئلہ اس طرح ہے: امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالینے فرمایا کہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیفرماتے تھے کہ اگر ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک درندہ کے آگے ڈال دیا اور درندے نے اس کو ہلاک کیا تو ایسا کرنے والے پر قصاص اور دیت کچھ نہ ہو گی۔ لیکن اس کو (تعزیراً) سزا دی جائے گی اور مارا اور قید کیا جائے گا یہاں تک کہ توبہ کرے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالینے فرمایا کہ میں شرح کے موافق یہ سمجھتا ہوں کہ برابر قید رکھا جاوے یہاں تک کہ مر جاوے۔ کذا فی المحیط۔ فتاویٰ عالمگیری اردو جلدنمبر9 ص300 طالب الرحمن کو چاہیے کہ اس مسئلہ میں قرآن سے قصاص ثابت کرے، ہم مان لیں گے۔ احناف پر بلاوجہ اعتراضات کرنا بہت آسان ہے، لیکن دلائل سے کچھ ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔