جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
نقصان نہ کرے گا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہمیں آپ کی طرف سے آرام ہو گا ۔رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کا قصور معاف کر دیااور اس کو کچھ سزا نہ دی۔رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب میں سے بعض لوگ جنہوں نے وہ گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے۔ اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں پچھنے لگائے اسی زہر کی وجہ سے ابو ہند نے پچھنے دیے گائے کے سینگ اور چھری سے اور وہ مولیٰ (غلام آزاد) تھا بنی بیاضہ کا جو انصار میں سے ایک قبیلہ تھا۔ ابوداود مترجم جلد3 ص414 باب فیمن سقی رجلا سما او اطعمہ فمات ایقاد منہ قارئین کرامآپ نے دیکھا کہ طالب الرحمن نے ان احادیث کا ذکر تک نہیں کیا۔ جب ایسی صورت واقعہ ہو تو پھر قصاص کے بجائے دیت ہی نافذ کی جائے گی۔ جو فقہ حنفی میں موجود ہے اور فتاویٰ عالمگیری کا مسئلہ بالکل درست ہے۔مسئلہ نمبر3 طالب الرحمن نے ترجمہ غلط کیا ہے۔ ہم فتاویٰ عالمگیری کے غیر مقلد مترجمسید امیر علی کا ترجمہ نقل کرتے ہیں: اگر ایک شخص نے دوسرے کو پکڑ کر بیڑیاں ڈال کے ایک کوٹھری میں قید کیایہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گیا تو امام محمد رحمہ اللہ تعالینے فرمایا کہ میں ایسے شخص کو سزا دے کر درد ناک کروں گا اور میت کی دیت اس کی مددگار برادری پر واجب ہو گی۔ مگر امام اعظم رحمہ اللہ تعالینے فرمایا کہ قید کرنے والے پر کچھ نہ ہو گا۔ (کچھ