جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
کے نزدیک قصاص نہیں ہے۔ اور صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) نے فرمایا کہ اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اس عبارت سے کچھ آگے یہ عبارتتھی: اور ابو حنیفہ کی دلیل فرمانِ نبیعلیہ الصلوۃ والسلام ہے آگاہ ہو جاؤ شبہ عمد کا مقتول کوڑے اور عصا کا مقتول ہے اور اس میں (شبہ عمد میں) اور ہر قتل خطا میں دیت ہے۔ اشرف الہدایہ جلد15، ص38، 39، کتاب الجنایات طالب الرحمن نے ہدایہ کے ص562 کا عکس دیا ہے اور ص563 کا عکس نہیں دیا جہاں پر امام ابو حنیفہ کی دلیل میں حدیث لکھی تھی۔یہ حدیث ابن حبان میں ہے اور کنز العمال اور جلد نمبر15، ص41 میں بھی ہے۔ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی لکھتے ہیں: قتل شبہ عمد میں قاتل گنہگار ہو گا اور اس پر کفارہ واجب ہے (ایک غلام کو آزاد کر ے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے) اور اس کے عصبات پر دیت مغلظہ (سو اونٹ) واجب ہے۔ جس کو وہ تین سال میں ادا کریں گے اور فاعل اگر وارث ہو تو اس میں مقتول کی میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔ المبسوط سرخسی ج26 ص66 طبع بیروت قارئین کرامآپ نے دیکھ لیا کہ فقہ حنفی میں ایسے جرم کی سزا موجود ہے۔ بلکہ بعض فقہائے احناف نے یہ لکھا ہے کہ اس مسئلہ میںصاحبین کے قول پر فتویٰہے۔ اور صاحبین کا قول ہدایہ کے اسی ص562 پر موجود ہے جس کا عکس طالب الرحمن نے دیا ہے۔ مگر ترجمہ نہیں کیا۔