جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
قرآن پاک میں بھی کتے کے شکار کا ذکر ملتا ہے: فَکُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ المائدہ:4 تو کھاؤ اس شکار میں سے جو وہ (شکاری کتے وغیرہ) مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پر اﷲ کا نام لو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے عدی بن حاتم سے فرمایا کہ اذا ارسلت الکلب المعلم وذکرت اسم اﷲ علیہ فاخذ فکل جب تو اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے اور کتا اسے پکڑ لے تو ایسے شکار کا کھانا تیرے لیے جائز ہے۔ نسائی ج2 ص192 ان روایات کے پیش نظر امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جب کسی جائز ضروریات کے لیے کتے کو پالنا اور اس سے فائدہ اٹھانا درست ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کی خرید و فروخت کرنا بھی درست ہو گا۔ اسی وجہ سے جن بعض روایات میں کتوں کی خرید و فروخت سے ممانعت آئی ہے۔ خود انہی روایات میںیہ استثناء بھی ثابت ہے چنانچہ دیکھئے مندرجہ ذیل روایات۔ عن جابر ان النبیعلیہ الصلوۃ والسلام نہی عن ثمن السنور والکلب الا کلب صید نسائی کتاب الصید ج2 ص195، دار قطنی ج3 ص73 سنن الکبریٰ بیہقی ج6، ص6، مسند احمد ج3 ص317 حضرت جابر بن عبداﷲ سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے بلی اور کتے کی بیع سے منع فرمایا۔ مگر شکاری کتے کی بیع سے۔