جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
اللہ علیہ وسلمنے (ابتدا میں) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا کتے لوگوں کو کیا تکلیف دیتے ہیں پھر آپ نے شکاری کتے اور بکریوں (کی حفاظت) کے (لیے) کتوں کو پالنے کی اجازت دے دی۔ اس حدیث میں تین باتوں کا ذکر ہے۔ 1۔ پہلے کتے کو قتل کرنے کا حکم تھا۔ 2۔ پھر قتل کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا۔ 3۔ پھر شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کے لیے پالنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ چنانچہ شکار اور کھیتی اور ریوڑ کی حفاظت کے لیے کتے کو پانے کی اجازت کی صریح روایات حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت ابوہریرہ اور سفیان بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہمسے مروی ہیں۔ صحیح مسلم کتاب المساقات والمزراعہ عن ابی ہریرۃ عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمقال من اقتنی کلبا لیس بکلب صید ولا ماشیۃ ولا ارض فانہ ینقص من اجرہ قیراطان کل یوم مسلم مترجم ج4 ص306 حدیث: 8193 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا جس شخص نے شکار، مویشی اور زمین کے علاوہ کتا پالا یا رکھا) اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ ان تینوجہوں سے کتا پالنے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت بعد کے زمانے ہی کی ہے۔ جس وقت کتوں کو قتل کرنے کا حکم منسوخ ہو چکا تھا۔