جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
عن ابی ہریرۃ قال نھی عن ثمن الکلب الا کلب الصید ترمذی ج1 ص154، سنن دار قطنی ج3 ص73، سنن الکبری بیہقی ج2 ص6 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہا انہوں نے منع کیا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے) کتے کی قیمت سے۔ مگر شکاری کتے کی قیمت کو یعنی اس کو منع نہیں کیا۔ ابن عباسرضی اللہ عنہماسے مروی ہے : رخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمفی ثمن الکلب الصید حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت دی۔ مسند امام اعظم ص169، نصب الرایہ ج4 ص54 اس کے علاوہ طحاوی اور سنن الکبریٰ بیہقی میں عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہاور سنن بیہقی میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہکے بارے میں مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے کسی کے شکاری کتے کو قتل کر دیا تو حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص نےقضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درہما فیصلہ فرمایا کہ کتے کا قاتل اس کے مالک کو چالیس درہم اور بیس اونٹوں کا تاوان ادا کرے۔ بیہقی ص8 ج6، طحاوی ج2 ص228 اگر شکاری کتے کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی تو مندرجہ بالا فیصلہ ہر گز نہ فرمایا جاتا۔ ان روایات میں شکاری کتے کی بیع کی اجازت مذکور ہے جب کہ کھیتی اور ریوڑ کے محافظ کتے کی خرید و فروخت کی اجازت اس پر قیاس کرنے سے ثابت ہو گی اور جو روایت طالب الرحمن نے نقل کی ہے۔ وہ پہلے زمانے کی ہے جب کتوں کو قتل کرنے کا حکم تھا جب شکار اور کھیتی اور ریوڑ کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہو گئی تو شکاری کتے کی بیع کی اجازت بھی بعد میں ہو گئی تھی۔