جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
النہی فی صلوۃ الفجر کما ذکرنا و لیست الاحادیث فی النہی عن الثلثۃ مخصوصۃ بالنفل کالنہی عن الصلوۃ بعد الفجر والعصر کما زعمت الشافعیۃ لقولہ صلی اﷲ علیہ وسلم من نام عن الصلٰوۃ او نسیہا فلیصلھا اذا ذکرہا فان ذلک وقتھا ای اولہ وبہ یوفقون بین ہذا الحدیث وتلک الاحادیث لان التخصیص خلاف الظاہر وظاہر الاحادیث النہی عن الفرائض والنوافل یعنی اور جواب یہ ہے کہ تحقیق تعارض واقع ہوا اس حدیث میں اور ان احادیث میں جن میں تین وقتوں میں نماز کی ممانعت وارد ہے ۔کیونکہ وہ شامل ہیں فرض اور نفل کو اور نہیں خاص ہیں نفل کے ساتھ جیسا کہ گمان کیا ہے شافعیہ نے۔ اور حکم تعارض کا درمیان دو حدیثوں کے رجوع کرنا ہے طرف قیاس کے اور قیاس نے اس حدیث کے حکم کو صلوٰۃ عصر کے جواز میں ترجیح دی اور حکم نہی کو نماز فجر کے عدم جواز میں ترجیح دی جیسا کہ ذکر کیا ہم نے۔ اور تین وقتوں میں نماز کی ممانعت کی حدیثیں نقل کے ساتھ خاص نہیں مثل حدیث ممانعت کے بعد فجر اور عصر کے جیساکہ گمان کیا اس کا شافعیہ نے بوجہ ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکے کہ جو شخص سو جاوے نماز سے یا بھول جاوے اس کو پس چاہیے کہ پڑھے اس کو جب یاد آوے۔ اس واسطے کہ تحقیقیہی وقت اس کا ہے یعنی اول وقت ہے اور اسی سے موافقت دیتے ہیںفقہائے محدثین درمیان اس حدیث کے اور ان احادیث کے، اس وجہ سے تخصیص کرنا ساتھ نفل کے خلاف ظاہر کے ہے اور ظاہر احادیث کا نہی ہے فرائض اور نوافل سے۔انتہیٰ اسی طرح کہا علامہ عینی اور علامہ ابن ہمام نے اور حدیث میں بھی جو علت