جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
یعنی علاوہ اس کے یہ بات ہے کہ امام طحاوی نے کہا ہے کہ تحقیقیہ حدیث منسوخ ہے ساتھ احادیث ممانعت کرنی والی کے اور دعویٰ کیا کہ اس کی عصر بھی باطل ہو جاوے گی مثل فجر کے۔انتہی۔ اور برہان شرح مواہب الرحمن میں لکھا ہے: وزاد الطحاوی مخالفا للامام وصاحبیہ عدم جواز عصر یومہ کالفجر وسائر الواجبات مدعیا انتساخ کلہا بالنصوص الناہیۃ والا یلزم العمل ببعض الحدیث وترک بعضہ یعنی اور زیادہ کیا امام طحاوی نے در انحالیکہ وہ خلاف کرنے والے تھے امام صاحب و صاحبین کے نہ جائز ہونا اس روز کی عصر کا مثل فجر کے اور باقی واجبات کے اس حال میں کہ دعویٰ کرتے ہیں وہ کل ان احادیث کے منسوخ ہونے کا بسبب احادیث نہی کے ورنہ لازم آ جائے گا عمل ساتھ بعض حدیث کے اور ترک بعض حدیث کا ۔انتہی اگر بالفرض منسوخ ہونے کو تسلیم نہ کیا جائے تو تعارض سے خالی نہیں اس لیے کہ بعض حدیث میں نماز پڑھ لینا آیا ہے اور بعض میں ممانعت آئی ہے پس وقت تعارض کے دونوں حدیثوں پر عمل کرنا محال ہے اس لیے قیاس جس حدیث کو ترجیح دے گا اس حدیث پر عمل کیا جاوے گا۔ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح از شیخ عبدالحق محدث دہلوی میں ہے: والجواب انہ قد وقع التعارض بین ہذا الحدیث وبین الاحادیث الواردۃ فی النہی عن الصلوۃ فی الاوقات الثلثۃ فانہا تعم الفرض والنفل ولیست مخصوصۃ بالنفل کما زعمت الشافعیۃ وحکم التعارض بین الحدیثینالرجوع الی القیاس والقیاس رجع حکم ہذا الحدیث فی صلوۃ العصر وحکم