جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
بیان کی ہے عام معلوم ہوتی ہے چنانچہ فتح القدیر کی عبارت میں ذکر اس کا ہو چکا ہے اس کے بعد لمعات میں لکھا ہے: وقال بعض اصحابنا احادیث النہی ناسخۃ لہذا الحدیث وکان ورودہ قبل النہی ومقتضاہ ان یبطل العصر ایضا بما ذکرنا فجوزنا فی العصر ہذا وقد روی عن ابییوسف ان الفجر لا یفسد بطلوع الشمس یعنی کہا ہمارے بعض اصحاب نے حدیثیں نہی کی ناسخ ہیں اس حدیث کی اور تھا تھا ورود اس حدیث کا قبل وارد ہونے نہی کے اور مقتضی اس قول کا یہ ہے کہ نماز عصر بھی باطل ہو جائے لیکن ہم نے اس کی علت بیان کر دی پس جائز رکھا ہم نے عصر میں اس کو اور تحقیق روایت کی گئی ہے امام ابو یوسف سے یہ کہ بے شک نماز فجر نہیں فاسد ہوتی طلوع آفتاب سے۔انتہی اور فتح المنان میں لکھا ہے کہ فجر کا کل وقت کامل ہے پس جب نماز اس وقت میں شروع کرے گا کامل ہی واجب ہو گی پس جب کہ طلوع سے نقصان عارض ہوا تو جیسی نماز واجب ہوئی تھی ویسی ادا نہیں ہوئی بخلاف عصر کے اس لیے کہ آخر وقت اس کا ناقص ہے کیونکہ وقت مکروہ ہے پس جب کہ شروع کرے گا اس وقت میں تو ناقص واجب ہو گی پھر جب کہ غروب سے نقصان عارض ہو گا تو وہ جیسے واجب ہوئی تھی ادا ہو جائے گی۔ انتہی۔ اس کے بعد چند دلائل اور بیان کیے ہیں پھر اخیر بحث میں لکھا ہے: وبما ذکرنا علم ان مذہب الحنفیۃ بنی علی التحقیق والتدقیق وان قیاساتہم ودلائلہم العقلیۃ لیست فی مقابلۃ النصوص بل لترجیح بعض الاحادیث علی بعض کما اشرنا الیہ فی مواضع