جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
وقت ٹھیک دوپہر کے یہاں تک کہ آفتاب ڈھلے اور تیسرے غروب ہونے کو جس وقت مائل ہو یہاں تک کہ غروب ہو جاوے ۔اور یہ حدیث فائدہ دیتی ہے اس کا کہ جنس نماز کسی قسم کی ہو حلال نہیں نہ یہ کہ خاص بعضی نماز درست نہ ہو۔ اور اس کا فائدہ دیتا ہے قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکا کہ تحقیق آفتاب طلوع کرتا ہے درمیان دو قرنوں شیطان کے پس جس وقت خوب بلند ہو جاتا ہے الگ ہو جاتا ہے اس سے شیطان۔ پھر جس وقت برابر سر کے آ جاتا ہے تو نزدیک ہو جاتا ہے اس کے پھر جس وقت ڈھل جاتا ہے اور جس وقت قریب غروب کے ہوتا ہے پھر شیطان اس کے پاس آ جاتا ہے اور جب غروب ہو جاتا ہے جدا ہو جاتا ہے اور منع کیا ہے نماز سے ان وقتوں میں۔ روایت کیا اس کو مالک نے موطا میں اور روایت کیا نسائی نے۔انتہیٰ اوریہ حدیثیں اس حدیث کے بعد وارد ہوئی ہیں چنانچہ علامہ عینی نے شرح ہدایہ میںلکھا ہے: وقال الحاوی ورود ہذا الحدیث ای حدیث من ادرک کان قبل نہیہ علیہ السلام من الصلوۃ فی الاوقات المکروہۃ یعنی کہا امام طحاوی نے وارد ہونا اس حدیث کا ؛یعنی حدیثمن ادرک کا؛ تھا پہلے ممانعت فرمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکی نماز سے اوقات مکروہ میں۔ انتہٰی۔ اس لیے امام طحاوی اس حدیث کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں۔ چنانچہ رد المحتار میں لکھا ہے: الا ان الامام الطحاوی قال الحدیث منسوخ بالنصوص الناہیۃ وادعی ان العصر یبطل ایضا کالفجر