جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
ہوتا ہے۔ رہا تفاوت کیفیتیعنی قوت و ضعف میں،تو وہ محل نزاع سے خارج ہے۔ علامہ علی القاری شرح فقہ اکبر ص95 میں لکھتے ہیں: فالتحقیق ان الایمان کما قال الامام الرازی لا یقبل الزیادۃ والنقصان من حیثیۃ اصل التصدیق لامن جہۃ الیقین فان مراتب اہلہا مختلفۃ فی کمال الدین کما اشار الیہ سبحانہ یقولہ واذا قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتیقال اولم تومن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی فان مرتبۃ عن الیقین فوق مرتبۃ علم الیقین ولذ اورد لیس الخبر کالمعائۃ یعنی تحقیقیہ ہے کہ ایمان جیسا کہ امام رازی نے فرمایا بحیثیت اصل تصدیق زیادتی و نقصان کو قبول نہیں کرتا۔ ہاں بحیثیتیقین قبول کرتا ہے کیونکہ اہل یقین کے مراتب کمال دین میں مختلف ہوتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور جب کہا حضرت ابراہیمعلیہ الصلوۃ والسلام نے اے میرے پروردگار تو دکھا مجھ کو کیونکر زندہ کرتا ہے تو مردوں کو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا کیا تو ایمان نہیں لایا؟ آپ نے عرض کی ہاں لیکن اس لیے تاکہ میرا دل اطمینان پائے۔کیونکہ مرتبہ عین الیقین کا بڑھ کر ہے مرتبہ علم الیقین سے اور اسی لیے آیا ہے کہ سنی ہوئی بات دیکھی ہوئی کی مانند نہیں۔ محدثین نے جو ایمان کی تفسیر میںیوں لکھا ہے۔ وہو قول وفعل ویزید و ینقصتو اس سے ان کی مراد ایمان کامل ہے جس میں اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔ علامہ عینیلکھتے ہیں: وقالالامام ہذا البحث لفظی لان المراد بالایمان ان کان ہو التصدیق فلا یقبلھا وان کان الطاعات فیقبلھا ثم قال الطاعات مکملۃ للتصدیق فکل ما قام من الدلیل علی ان الایمان لا یقبل الزیادۃ والنقصان کان