جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
وقولہ واذا تلیت علیہم ایاتہ زادتہم ایمانا معناہ انہم کلما سمعوا ایۃ جدیدۃاتوابا اقرار جدیدفکان ذلک زیادۃ فی الایمان والتصدیق تفسیر کبیر۔ جزء رابع ص512 یعنی اس کے معنییہ ہیں کہ جب انہوں نے کوئی نئی آیت سنی تو نیا اقرار کیا۔ پس یہ ایمان و تصدیق میں زیادتی ہوئی۔ پس آیات مذکورہ بالا میں زیادت ایمان کو اگر حقیقت پر محمول کریں تو یہ زیادتبحسبالمتعلق ہو گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکے زمان مبارک سے مخصوص ہو گی۔ اور اگر مجاز پر محمول کریں تو زیادت بحسب الکیفیۃ ثابت ہو گی۔ امام صاحب نے کہیں اس طرح کی زیادتی کی مخالفت نہیں کی۔ آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارا ایمان بحسب الکمیۃ نہ زائد ہوتا ہے نہ ناقص۔ اور یہ قرآن کریم کی کسی آیت کے مخالف نہیں۔ شرح مواقف میں ماتن کے قولالاول القوۃ و الضعفپر ایکمحشی نے کیا خوب لکھا ہے: قیل ہذا مسلم لکن لا طائل تحتہ اذا النزاع انما ہو فی تفاوت الایمان بحسب الکمیۃ اعنی القلۃ والکثرۃ فان الزیادۃ اکثر ما یستعمل فی الاعداد واما التفاوت فی الکیفیۃ اعنی القوۃ والضعف فخارج عن محل النزاع شرح مواقف، مطبوعہ استبنول، ج3، ص252 کہا گیا کہ یہ امر )یعنی زیادت و نقصان تصدیق بحیثیت قوت و ضعف) مسلم ہے۔ لیکن اس میں کچھ فائدہ نہیںکیونکہ نزاع تو اس میں ہے کہ آیا ایمان بحسب الکمیۃیعنی قلت و کثرت میں متفاوت ہوتا ہے؟کیونکہ لفظ زیادت اکثر عددوں میں مستعمل