جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
نزدیک سے دیکھتا ہے۔پانچویں آیت : وَلَمَّارَاَی الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّا اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا الاحزاب:22 اس آیت میں بھی زیادت ایمان سے مراد زیادتبحسب الکیفیت ہے۔چھٹی آیت : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیَاتُہُ زَادَتْہُمْ اِیْمَاناً وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ٭ الانفال:2 ”بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اﷲ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اﷲ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“ علامہ علی القاریواذا تلیت علیہم ایاتہ زادتھم ایمانا کی نسبت لکھتے ہیں۔ فمعناہایقانااو مؤل بان المراد زیادۃ الایمان بزیادۃ نزول المومن بہ۔ ای القرآن شرح فقہ اکبر ص100 یعنی زیادت ایمان کے معنی ایقان ہیں، یا اس کی یوں تاویل کی جائےگی کہ مومن بہیعنی قرآن کے نزول کی زیادتی سے ایمان کی زیادتی مراد ہے۔ امام فخر رازی لکھتے ہیں: