جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
واظہرواحمیۃ الاسلام واخلصوا النیۃ عندہ ج2 ص 104چوتھی آیت : وَاِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہِاِیْمَانًا فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ التوبہ:124 ”اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا ہے سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔“ روح البیان میںفزادتہم ایمانا کے تحت میں ہے۔ ہذا بحسب المتعلق وہو مخصوص بزمان النبی علیہ السلام واما الان فالمذہب علی ان الایمان لا یزید ولا ینقص وانما تتفاوت درجاتہ قوۃ وضعفا فانہ لیس من یعرف الشیء اجمالا کمن یعرفہ تفصیلا کما ان من رای الشیء من بعید لیس کمنیراہ من قریب ج 3 ص 407 یعنییہ زیادت ایمان کے متعلق ایمان کے لحاظ سے ہے اور یہ خاص ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے کے ساتھ۔ لیکن اب مذہب یہ ہے کہ ایمان نہ زائد ہوتا ہے نہ ناقص۔ ہاں ایمان کے درجے قوت و ضعف کے لحاظ سے متفاوت ہیں۔ کیونکہ جو شخص کسی چیز کو بطریق اجمال جانتا ہو وہ اس کی مانند نہیں جو اس چیز کو بطریق تفصیل جانتا ہے، جیسا کہ جو شخص کسیچیز کو دور سے دیکھے وہ اس کی مانند نہیں جو اسے