جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
”ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کر لیں اور اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے۔“ امام اسماعیل حقی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اییزداد ایمانہم کیفیۃ بما رأو امن تسلیم اہل الکتاب تصدیقہم انہ کذلک او کمیۃ بانضمام ایمانہم بذلک الی ایمانہم بسائر ما انزل تفسیر روح البیان یعنی مومنوں کا ایمان اہل کتاب کی تسلیم و تصدیق کو دیکھ کر کیفیت میں زیادہ ہو جائے۔ یا کمیت میں زیادہ ہو جائے۔ بدیں طور کہ اس عدد ملائک نار کے ساتھ باقی احکام و شرائع پر بھی ایمان لائیں۔تیسری آیت : اَلَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْفَاخْشَوْہُمْفَزَادَہُمْاِیْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ آل عمران:173 ”وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لیے ہیں تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اﷲ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔“ اس آیت میں بھی ایمان سے مراد زیادت اطمینان نفس ہے۔ چنانچہ روح البیان میں ہے۔ والمعنی لم یلتفتوا الی ذلک بل ثبت بہ یقینہم وازداد اطمینانہم