جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
مراتب اجلی البدیہات سے لے کر اخفی النظریات تک بے شمار ہیں۔ پھر ہمارا یہ قول اول کا منافی نہیں اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ مراتب بیاض جس کی تحقیق اپنے مقام پر مذکور ہے۔ پس اس میں استعارہ ہے یا معنییہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے شرائع و احکام کے ساتھ مومنوں کے دلوں میں سکون نازل کر دیا تاکہ وہ وحدانیت و یوم آخر کے ایمان پر ان شرائع کے ایمان کو زائد کر لیں۔ پس کلمہ قرآن اپنے حقیقی معنی پر رہے گا اور قرآن حقیقت پر محمول ہو گا کیونکہ اس صورت میں ایمان کا تعلق اپنے متعلق کی زیادتی کے ساتھ ہو گا۔ پس اجتماع مثلین نہ لازم آئے گا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ پہلے جو نبیعلیہ الصلوۃ والسلام لائے ،وہ توحید تھی۔ پھر نماز و زکوٰۃ۔ پھر حج و جہاد یہاں تک کہ دین کو کامل کر دیا جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے الیوم اکملت لکم دینکمپس انہوں نے ایمان کے ساتھ ایمان کو زیادہ کیا۔ لہٰذا اس زمانے میں شرائع و احکام کی زیادتی کے ساتھ ایمان زائد ہوتا تھا۔ لیکن اب نہ زائد ہوتا ہے نہ ناقص۔ بلکہ اس کا نور زائد ہوتا ہے اور وہ کثرت اعمال اور قوت احوال سے قوی ہوتا ہے، پس وہ جو ہر فرد کی مانند ہے، جیسا کہ جوہر فرد میں من حیث ہو زیادت و نقصان متصور نہیں۔ اسی طرح ایمان میں بحیثیت ماہیت کمی بیشی متصور نہیں۔دوسری آیت : وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰئِکَۃً وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْالِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِیْمَانًا المدثر31