جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
النفس علیہ ومن ثمہ قال علیہ السلام لو وزن ایمان ابی بکر مع الثقلین لرجح وکلمۃ مع فی ایمانہم لیست علی حقیقتھا لان الواقع فی الحقیقۃ لیس انضمام یقین الییقین لامتناع اجتماع المثلین بل حصول نوع یقین اقوی من الاول فان لہ مراتب لا تحصی من اجلی البدیہیات الی اخفی النظریات ثم لاینفی الاول ما قلنا وذلک کما فی مراتب البیاض علی ما حقق فی مقامہ ففیہا استعارۃ او المعنی انزل فیہا السکون الی ما جاء بہ النبی علیہ السلام من الشرائع لیزدادوا ایمانا بہا مقرونا مع ایمانہم بالوحدانیۃ والیوم الاخر فکلمۃ القرآن علی حقیقتھا والقرآن فی الحقیقۃ لتعلق الایمان بزیادۃ متعلقۃ فلا یلزم اجتماع المثلین وعن ابن عباس رضی اﷲ عنہما ان اول ما اتاہم بہ النبی علیہ السلام التوحید ثم الصلاۃ والزکاۃ ثم الحج والجہاد حتی اکمل لہم دینہم کما قال الیوم اکملت لکم دینکم فازدادوا ایمانا مع ایمانہم فکان الایمانیزید فیذلک الزمان بزیادۃ الشرائع والاحکام واما الان فلا یزید ولا ینقص بل یزید نورہ ویقوی بکثرۃ الاعمال وقوۃ الاحوال فہو کالجوہر الفرد فکما لا یتصور الزیادۃ والنقصان فی الجوہر الفرد من حیث ہو فکذا فی الایمان۔ یعنی اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کے دلوں میں ثبات و طمانیت نازل کی تاکہ رسوخ عقیدہ و اطمینان نفس کے سبب ان کے پہلے یقین کے ساتھ اور یقین مل جائے۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکا ایمان جن و انس کے ساتھ وزن کیا جاوے تو غالب نکلے ۔اور مع ایمانہممیں کلمہ مع اپنے حقیقی معنی پر نہیںکیونکہ حقیقت میںیقین کی زیادتییقین پر واقع نہیں اس لیے کہ اجتماع مثلین ممتنع ہے، بلکہ نوع یقین کا حصول جو پہلے سے اقوی ہو۔ کیونکہ یقین کے