جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
کی تائید اپنی روح سے کی ہے۔“ ان آیتوں میں ایمان کا محل دل قرار دیا گیا ہے۔پس آیات مذکورہ بالا سے صاف ظاہر ہو گیا کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے۔ اسی تصدیق قلبی کی نسبت امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں باعتبار کمیت زیادت و نقصان متصور نہیں۔ چنانچہ آپ کتاب الوصیۃ میں فرماتے ہیں: ثم الایمان لا یزید ولا ینقص لانہ لا یتصور زیادۃ الایمانالا بنقصان الکفر ولا یتصور نقصان الایمان الا بزیادۃ الکفر فکیفیجوز ان یکون الشخص الواحد فی حالۃ واحدۃ مؤمنا وکافرا شرح فقہ اکبر العلی القاری مطبوعہ لاہور ص99 ”ایمان نہ تو بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے، اس لیے کہ ایمان میں زیادتی تبھی ہوگی جب کفر میں کمی ہوگی اور ایمان میں کمی تبھی ہوگی جب کفر میں اضافہ ہوگا۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں مسلمان بھی ہو اور کافر بھی۔“ اب ہم ان آیتوں کو ذکر کرتے ہیں جن میں زیادت ایمان مذکور ہے۔پہلی آیت : ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ الفتح:4 ”وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون اور اطمینانڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں۔“ اس آیت کے تحت میں تفسیر روح البیان میں ہے: ای یقینًا متضمًا الییقینہم الذی علیہ برسوخ العقیدۃ واطمئنان