جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
”اے رسول آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواہ وہ ان منافقوں میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکنحقیقتاً ان کے دل باایمان نہیں۔“ اس آیت میں ایمان کو دل کا فعل بتایا گیا ہے۔گیارہویں آیت : مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ ایْمَانِہٖ اِلاَّ مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ النحل:106 ”جو شخص اپنے ایمان کے بعد اﷲ سے کفر کر لے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔“بارہویں آیت : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ الحجرات:14 ”دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ آپ کہہ دیجیے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو ہم اسلام لائے )مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے(حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔“تیرہویں آیت : اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ المجادلہ22 ”یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان کو رکھ دیا ہے اور جن