جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
ان تینوں آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پہلے ایمان کے ساتھ خطاب کیا۔ پھر اعمال کے ساتھ مکلف فرمایا۔ اس سے پایا جاتا ہے کہ عمل؛ مفہوم ایمان سے خارج ہے ورنہ تحصیل حاصل کے ساتھ مکلف کرنا لازم آئے گا۔ کذا قال العینیآٹھویں آیت : یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا التحریم:8 ”اے ایمان والو تم اﷲ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔“نویں آیت : وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ النور:31 ”اے مسلمانو تم سب کے سب اﷲ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔“ علامہ عینی لکھتے ہیں: وہذا یدل علی صحۃ اجتماع الایمان مع المعصیۃ لان التوبۃ لا تکون الا من المعصیۃ والشیء لا یجتمع مع ضد جزئہ یعنی اس سے پایا جاتا ہے کہ ایمان معصیت کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔ کیونکہ توبہ معصیت ہی سے ہوتی ہے۔ اور کوئی شیء اپنے جزء کی ضد کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔دسویں آیت : یَا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ المائدہ:41