جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
ماہیت شے سے خارج ہوتی ہے۔ لہٰذا عمل صالح ماہیت ایمان سے خارج ثابت ہوا۔پانچویں آیت : یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ البقرہ:183 ”اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔“چھٹی آیت : قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّأْتِیَیَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْہِ وَلاَ خِلاَلٌ ابراہیم:31 ”میرے ایمان والے بندو سے کہہ دیجیے کہ نمازوں کو قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ نہ کچھ پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی نہ دوستی اور محبت“ساتویں آیت : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ المائدہ:6 ”اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔“