جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
تیسری آیت : اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَلَہُمُالْاَمْنُوَہُمْمُّہْتَدُوْنَ انعام:82 ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔“ علامہ عینی فرماتے ہیں: ولمیلبسوا ایمانہم بظلم ای لم یخلطوہ بارتکاب المحرمات ولو کانت الطاعۃ داخلۃ فی الایمان لکان الظلم منفیا عن الایمان لان ضد جزء الشیءیکون منفیا عنہ والا یلزم اجتماع الضدین فیکون عطف الاجتناب منہا علیہ تکرارا بلا فائدۃ یعنی انہوں نے ایمان کو ارتکاب محرمات کے ساتھ نہیں ملایا۔ اگر طاعت ایمان میں داخل ہوتو ظلم ایمان سے علیحدہ چیز ہوئیکیونکہ کسی شی کے جزء کی ضد اس شے سے علیحدہ ہوتی ہے ورنہ اجتماع ضدین لازم آئے گا۔ پس اجتناب من المحرمات کا عطف ایمان پر بے فائدہ تکرار ہو گا۔چوتھی آیت : فَمَنْیَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہِ وَاِنَّا لَہٗ کَاتِبُوْنَ انبیاء :94 ”پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی، ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔“ اس آیت میں صحت عمل کے لیے ایمان کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ اور شرط شے