جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
”اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔“ اس آیت کے تحت میں امام فخر رازی لکھتے ہیں: وہہنا مسائل (المسئلۃ الاولٰی) العمل الصالح خارج عن مسمی الایمان لانہ تعالٰی قال والذین امنوا وعملوا الصلحت فلو دل الایمان علی العمل الصالح لکان ذکر العمل الصالح بعد الایمان تکرارا۔ اس مقام پر کئی مسئلے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ عمل صالح ایمان کے مسمی سے خارج ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ والذین امنوا وعملوا الصلحت پس اگر ایمان عمل صالح پر دلالت کرے تو ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر تکرار ہو گا۔دوسری آیت : وَاِنْ طَائِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا الحجرات:9 ”اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔“ اس آیت میں باوجود قتال کے اﷲ تعالیٰ نے ہر دو فریق کو مومن فرمایا۔ پس معلوم ہوا کہ عمل صالح کے ترک سے مومن ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ علامہ عینی لکھتے ہیں: ووجہ دلالتہ علی المطلوب انہ لا یجوز مقارنۃ الشیء بضد جزء ہ یعنی مطلوب پر اس آیت کے دلالت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اپنی ضد کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔ عمدۃ القاری جزء اول، ص125