جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
یعنی نماز شروع کی تو دیکھا کہ کپڑے میں قدر درہم سے کم نجاست ہے اور وقت میں فراخی ہے تو افضل یہ ہے کہ نماز قطع کر کے کپڑا دھو ڈالے اور دوسری جماعت میں نئے سرے سے شروع کرے اگرچہ یہ جماعت اس کی فوت بھی کیوں نہ ہو جائے۔ تاکہ اس کے فرض یقینا ادا ہو جائیں اور اگر پانی نہیںیا وقت میں وسعت نہیںیا دوسری جماعت ملنے کی امید نہیں تو اسی کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ طحطاوی فرماتے ہیں: المراد عفا عن الفساد بہ والا فکراہۃ التحریم باقیۃ اجماعا ان بلغت الدرہم وتنزیھا ان لم تبلغ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص90 یعنی عفو سے مراد ہے کہ نماز فاسد نہیں ورنہ کراہت تحریمی اجماعاً باقی رہتی ہے اگر نجاست ایک درہم کی مقدارکو پہنچے ۔ اور اگر درہم سے کم ہو تو کراہت تنزیہی رہتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر بقدر درہم نجاست کے ساتھ نماز پڑھے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہو گی۔ جس کا اعادہ واجب اور کپڑے کا دھونا واجب ہے۔پس دیانت کا تقاضا تو یہ تھا کہ طالب الرحمن ان تمام باتوں کو بھی لکھتا پھر اعتراض کرتا تاکہ قارئین کرامکو اصل مذہب کا پتہ لگ جاتا۔ مگر یہاں تو عوام کو صرف مغالطہ میں ڈال کر مذہب حنفی سے بے گانہ کرنا مقصود تھا۔ دیانت سے کیا کام؟ قارئین کرام!جب ہم اصل مسئلہ معلوم کر چکے تو اس معافی کا ماخذ بھی معلوم کر لینا چاہیے۔ یہ معافی فقہاء نے استنجاء بالاحجار سے اخذ کی ہے کیونکہ ظاہر ہے پتھر ڈھیلے مزیل نجاست نہیں ہیں بلکہ مخفف اور منشف ہیں تو موضع غائط کا نجس ہونا