جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
ہے نہ بہ نسبت گناہ کے۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کرنے والے کو گناہ بھی نہیں۔فقہاءعلیہم الرحمۃنے تصریح فرمائی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ تحریمہ ہے۔ درمختار میں ہے: عفا الشارع عن قدر درہم وان کرہ تحریما فیجب غسلہ در مختار ج1 ص 316 شارع نے قدرِ درہم معاف کیا ہے اگرچہ مکروہ تحریمہ ہے۔ پس اس کا دھونا واجب ہے۔ معلوم ہوا کہ جس کپڑے کو بقدر درہم نجاست لگی ہو گی اس میں نماز پڑھنا ہمارے نزدیک مکروہ تحریمہ ہے۔ اس کا دھونا اور نماز کا اعادہ واجب ہے۔ کما قال الشیخ عبد الحئ لکھنوی اشارۃ الی ان العفو عنہ بالنسبۃ الی صحۃ الصلٰوۃ بہ فلا ینافی الاثم عمدۃ الرعایۃ ص150، ج1 کہیہ معافی بنسبت صحت نماز ہے نہ یہ کہ اس کو گناہ نہیں۔ اوریہ اجازت ہی اس صورت میں ہے کہ دھونے کے لیے پانییا دوسرا پاک کپڑا نہ ملے۔ اگر پانی میسر ہے اور وقت کی گنجائش بھی ہے تو اسے دھو نا ہی ضروری ہے۔ چنانچہ فتاویٰ غیاثیہ ص13 میں ہے: دخل فی الصلٰوۃ فریٰ بہ ثوبہ نجاسۃ اقل من قدر الدرہم وکان فی الوقت سعۃ فالافضل ان یقطع او یغسل الثوب ویستقبلھا فی جماعۃ اخرٰی وان فاتتہ ہذہ لیکون موریا فرضہ علی الجواز بیقین فان کان عالما للماء اولم یکن فی الوقت سعۃ اولا یرجوا جماعۃ اخرٰی مضی علیہماو ہو الصحیح