جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
شریعت نے نماز کے لیے معاف کیا ہے اور وہ قدر درہم ہوتا ہے۔ اس لیے فقہاء نے نماز کے لیے بقدر درہم معاف لکھا ہے۔ امام نووی شرح صحیح مسلم میں حدیثاذا استیقظ احدکم من منامہکے بعض فوائد میں سے لکھتے ہیں: منھا ان موضع الاستنجاء لا یطہر بالاحجار بل یبقٰی نجسا معفوا عنہ فی حق الصلٰوۃ نووی ص136 یعنی بعض فوائد میں سے یہ ہے کہ استنجاء کی جگہ پتھروں سے پاک نہیں ہوتی بلکہ نجس رہتی ہے جو نماز کے حق میں معاف ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر فتح الباری پارہ نمبر1 میں لکھتے ہیں ہدایہ شریف میں ہے: قدرناہ بقدر الدرہم اخذ عن موضع الاستنجاء ص58 کہ وہ قلیل نجاست جو کہ معاف ہے ہم نے اس کا اندازہ بقدر درہم رکھا اور اس کا ماخذ استنجاء کی جگہ (کا معاف ہونا( ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں: قال فی شرح المنیۃ ان القلیل عفو اجماعًا اذا الاستنجاء بالحجر کاف بالاجماع وہو لا یستاصل النجاسۃ والتقدیر بالدرہم مروی عن عمر و علی وابن مسعود وہو مما لا یعرف بالرائی فیحمل علی السماع ۔ وفی الحلیۃ القدیر بالدرہم وقع علٰی سبیل الکنایۃ عن موضع خروج