ہوتی کہ وہ دار پر مرنے نہیں پائے تو’’ماقتلو‘‘ کا لفظ بے جا ہوتا۔ کیونکہ دوسری قسم پرحضرت مسیح علیہ السلام کے مقتول ہونے کا شبہ اہل کتاب کے عقائد میں ہرگز نہیں اوراﷲ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت :’’وجیھا فی الدنیا والاخرۃ‘‘ فرمایا ہے ۔یہ دلیل ہے اس بات پر کہ ان کو دار پر نہیں چڑھایا گیا۔اگر صرف دار پر چڑھائے جاتے تب بھی ان کی وجاہت جاتی رہتی اورجھوٹے الزام سے وجاہت میں فرق نہیں آسکتا۔
ہاں! الزام صحیح البتہ ذلت کا سبب ہے اور یہ کتنے بڑے گناہ کی بات ہے کہ نبی کو غیر وجیہ جانا جائے یاغلط طور پر خدا اس کو وجیہ فرمائے۔ اور فرمایا:’’ مطھرک من الذین کفروا‘‘یعنی تجھ کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے یہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ کفار کے نجس ہاتھ ان تک نہ پہنچے ورنہ تطہیر نہیں ہوسکتی اور تطہیر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو کفار کے الزام سے پاک کیا۔کیونکہ الزامات کفار سے ان کو جھولے میں بولنے اورمردوںکو زندہ کرنے سے پاک کردیا ہے۔ بلکہ یہاں تطہیر سے مرادیہودیوں کے مکر وکید سے حفاظت جان کے موقع پربچایاجاتاہے اوریہ مراد نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے خیالات فاسدانہ سے قرآن پاک نے تطہیر کی ۔کیونکہ قرآن شریف کی تطہیر کو یہود نہیں مانتے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طہارت قرآن سے کیسے ثابت ہوسکتی ہے۔بلکہ ماننا پڑے گا کہ تطہیر سے مراد قتل اورصلیب کے حادثے سے بچانے کا دوسرا امر یعنی یہود کے شبہ میںپڑ جانے کی نسبت جو تفصیل مرزائیوں نے لکھی ہے۔اس پردلائل اسلام سے کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ انجیل اور اس کی تفاسیر کی باتیں درج کردی ہیں اور’’شبہ لھم‘‘ سے یہ مراد نہیں ہے کہ یہودیوں کے سامنے کوئی دوسرا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت پر ہوگیاتھا اورانہوں نے اس کو سولی پر چڑھایا۔ کیونکہ اگر یہ جائز ٹھہرے کہ اﷲ تعالی ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت پر کردیتا ہے تو اس سے سفسطے کا دروازہ کھل جائے گا۔اس لئے کہ ہم نے زید کو دیکھا۔
پس یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید زید نہ ہو کوئی اورشخص ہو کہ اس کی صورت زید کی سی ہو۔اس صورت میں نہ طلاق کا نہ نکاح کا نہ ملکیت کا اعتبار رہے گا ۔دوسری خرابی یہ ہے کہ اس سے تواتر میں نقصان لازم آتا ہے۔اس لئے کہ خبر متواتر سے علم کا فائدہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ وہ محسوس پر منتہیٰ ہو اورجب کہ محسوسات میں یہ شبہ پڑ گیا تو متواترات پر بھی اعتبار نہ رہے گا اوراس سے تمام شرائع میں خرابی واقع ہوجائے گی اوراس سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت پر طعن لازم آتاہے۔